’روسی صدر کا دورہ اشتعال انگیز اور غیر ضروری‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر پوتن نے کرائمیا کی عوام کے روس میں شامل ہونے کے فیصلے کو سراہا

امریکہ نے روسی صدر ولادی میر پوتن کے یوکرین سے علیحدہ ہو کر روس میں شامل ہونے والے جزیرہ نما علاقے کرائمیا کے دورے کو اشتعال انگیز اور غیر ضروری قرار دیا ہے۔

اس سال مارچ میں کرائمیا کی یوکرین سے علیحدگی کے بعد روسی صدر کا کرائمیا کا یہ پہلا دورہ تھا۔ کرائمیا میں روسی صدر نے سنہ 1945 میں نازی جرمنی کے خلاف فتح کی سالگرہ کے موقع پرسیواستوپول کی بندرگاہ پر روسی بحریہ کے سیلروں سے خطاب کیا۔

یورپی یونین نے بھی روسی صدر کے کرائمیا کے دورے کی پرزور مذمت کی ہے اس کے علاوہ یوکرین نے اس دورے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملکی حؤدمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

امریکہ کے محکمۂ خارجہ کی ترجمان جین پساکی نے روسی صدر کے کرائمیا کے دورے کو اشتعال انگیز اور غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ کرائمیا یوکرین کا حصہ ہے اور ہم روس کے غیرقانونی طریقۂ کار اور ناجائز اقدامات کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔

دوسری جانب یورپی یونین کی خارجہ امور کی نگران کیتھرین ایشٹن کی ترجمان نے کہا ہے کہ یورپی یونین کو صدر پوتن کی کرائمیا میں ایک فوجی پریڈ میں موجودگی پر افسوس ہے۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل آئیرس فو راس موسن نے بھی روسی صدر کے دورے کو غیر مناسب قرار دیا ہے۔

دوسری جانب روسی صدر کے کرائمیا کے دورے کے موقع پر مشرقی یوکرین کے علاقے میریپول میں حکام کے مطابق یوکرین کی فوجوں اور روس کے حامی علیحدگی پسندوں میں جھڑپوں میں 20 افراد ہلاک اور یوکرین کا ایک سکیورٹی اہلکار مارا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یوکرین اور مغربی ممالک کا خیال ہے کہ روس یوکرین کے مشرقی علاقوں میں مزاحمت کاروں کو کنٹرول کر رہا ہے لیکن روس اس الزام سے انکار کرتا ہے

قبل ازیں روس میں کرائمیا اور یوکرین کے بحرانوں کے دوران پیدا ہونے والی حب الوطنی کی لہر کے پس منظر میں نازی جرمنی کی شکست کی 69ویں سالگرہ کے موقعے پر ایک عظیم الشان فوجی پریڈ منعقد کی گئی۔

صدر ولادی میر پوتن نے اس موقعے پر اپنے خطاب میں کہا کہ اس دن وطن سے محبت کرنے والی کی جیت ہوئی تھی۔ انھوں نے مادرِ وطن کے مفادات کے تحفظ کا عزم بھی کیا۔

یوکرین کے جنوبی اور مشرقی حصوں میں تشدد کے خدشے کے پیش نظر اس دن کے حوالے سے تقریبات نسبتاً دھیمی رہیں۔

روس کی حکومت یوکرین میں تشدد بھڑکانے کے الزامات کی تردید کرتی ہے۔یوکرین کے مشرقی علاقوں روس نواز مظاہرین نے حکومتی عمارتوں پر دھاوا بول کر قبضہ کر رکھا ہے اور یوکرین کی سکیورٹی فورسز ان کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔ مشرقی علاقوں میں علیحدگی پسندوں نے اتوار کو یوکرین سے آزادی کے لیے ریفرینڈ کرانے کا اعلان کر رکھا ہے۔

اسی بارے میں