فرانس،جرمنی کی روس کو مزید پابندیوں کی دھمکی

تصویر کے کاپی رائٹ n
Image caption فرانسوا اولاند اور آنگیلا میرکل نے یوکرین کی سرحد پر موجود روسی فوج میں واضح کمی کا مطالبہ کیا

فرانس اور جرمنی نے روس کو خبردار کیا ہے کہ اگر یوکرین میں 25 مئی کو صدارتی انتخاب نہ ہونے دیا گیا تو وہ روس پر مزید پابندیاں عائد کر دیں گے۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند اور جرمن چانسلر آنگیلا میرکل نے جرمنی میں ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ انھیں یوکرین کے مزید غیرمستحکم ہونے کا خدشہ ہے۔

ان دونوں رہنماؤں نے کہا ہے کہ مشرقی یوکرین میں اتوار کو مقامی سطح پر ہونے ریفرینڈم کا انعقاد بھی غیرقانونی اقدام ہوگا۔

یوکرین کے مشرقی علاقوں میں علیحدگی پسندوں نے اتوار کو یوکرین سے آزادی کے لیے ریفرینڈم کروانے کا اعلان کر رکھا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے یوکرین کی سرحد پر موجود روسی فوج میں واضح کمی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس وقت اس سرحد پر اندازاً 40 ہزار روسی فوجی تعینات ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر یوکرین میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ صدارتی انتخاب نہیں ہوتا تو اس سے ملک میں عدم استحکام میں اضافہ ہوگا۔

فرانس اور جرمنی نے کہا ہے کہ ’اگر ایسا ہوتا ہے تو اس صورت میں نتائج ان بنیادوں پر ہوں گے جن کا تعین یورپی کونسل نے چھ مارچ کو کیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یوکرین کے مشرقی علاقوں روس نواز علیحدگی پسندوں نے حکومتی عمارتوں پر قبضہ کر رکھا ہے

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب روس پر ان پابندیوں کا فوری نفاذ ہوگا جن کی منظوری یورپی رہنما مارچ میں دے چکے ہیں۔

امریکہ اور یورپی یونین پہلے ہی روسی صدر ولادی میر پیوتن سے منسلک کمپنیوں اور حکام پر پابندیاں لگا چکے ہیں۔

اس مشترکہ بیان میں یوکرینی حکومت سے بھی کہا گیا ہے کہ اگر عوام کی جان و مال کے تحفظ کا معاملہ نہ ہو تو وہ ملک میں الیکشن سے قبل فوجی کارروائی سے گریز کرے۔

خیال رہے کہ یوکرین کے مشرقی علاقوں روس نواز علیحدگی پسندوں نے حکومتی عمارتوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور یوکرینی افواج ان کے خلاف آپریشن میں مصروف ہیں۔

روس کی حکومت یوکرین میں تشدد بھڑکانے کے الزامات کی تردید کرتی ہے۔

اس سے قبل امریکہ اور یورپی یونین نے روسی صدر ولادی میر پوتن کے یوکرین سے علیحدہ ہو کر روس میں شامل ہونے والے جزیرہ نما علاقے کرائمیا کے دورے کو اشتعال انگیز اور غیر ضروری قرار دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یوکرین سے علیحدگی کے بعد روسی صدر کا کرائمیا کا یہ پہلا دورہ تھا

کرائمیا میں روسی صدر نے سنہ 1945 میں نازی جرمنی کے خلاف فتح کی سالگرہ کے موقع پر سیواستوپول کی بندرگاہ پر روسی بحریہ کے ارکان سے خطاب کیا۔

اس سال مارچ میں کرائمیا کی یوکرین سے علیحدگی کے بعد روسی صدر کا کرائمیا کا یہ پہلا دورہ تھا۔

امریکہ کے محکمۂ خارجہ کی ترجمان جین پساکی نے روسی صدر کے کرائمیا کے دورے کو اشتعال انگیز اور غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ کرائمیا یوکرین کا حصہ ہے اور ہم روس کے غیرقانونی طریقۂ کار اور ناجائز اقدامات کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔

دوسری جانب یورپی یونین کی خارجہ امور کی نگران کیتھرین ایشٹن کی ترجمان نے کہا ہے کہ یورپی یونین کو صدر پوتن کی کرائمیا میں ایک فوجی پریڈ میں موجودگی پر افسوس ہے۔

اسی بارے میں