’ہندوستانیوں کے ساتھ کُوڑے جیسا سلوک بند کرو‘

Image caption لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے خلاف لوگوں کی بہت ساری شکایتیں ہیں جن کے بعد ایک آن لائن مہم شروع کی گئی ہے

’ہندوستانیوں کے ساتھ کُوڑے جیسا سلوک بند کرو‘ ان سخت الفاظ کے ساتھ لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے خلاف ایک آن لائن مہم شروع کی گئی ہے۔

اس آن لائن پیٹیشن یا عرض داشت میں الزام لگایا گیا ہے کہ ہائی کمیشن کی ویب سائٹ پر مکمل معلومات فراہم نہیں کی جاتی، آن لائن اپوائنٹمنٹ کا نظام نہیں ہے اور وہاں کام کرنے والے لوگوں کا رویہ ٹھیک نہیں ہے۔

بہت سے لوگوں کی شکایت ہے کہ ہائی کمیشن میں ان کا تجربہ بہت ہی تلخ تھا۔ لوگ سخت تنقید بھی کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ان کا کہنا ہے کہ ’لوگوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک بند کیا جانا چاہیے‘، ’بھارتی ہائی کمیشن جانا جہنم جانے کے مترادف ہے جس سے ہمیشہ بچنا چاہیے‘، ’یہ بہتر ہونا چاہیے‘ وغیرہ۔

لندن میں ’سٹاپ ٹریٹنگ انڈینز لائک گاربیج‘ نامی اس آن لائن مہم کی پہل ارون اشوكن نے کی ہے اور انھوں نے بھارتی ہائی کمیشن، بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید اور امیگریشن معاملات کے وزیر وايلار روی کو اس سلسلے میں خطوط لکھے ہیں۔

ارون کے مطابق: ’ہائی کمیشن میں کوئی کام ہو تو صبح 6:00 سے 9:45 بجے تک قطار میں کھڑے رہنا پڑتا ہے۔ حاملہ خواتین ہو یا پھر کوئی اپاہج شخص، وہ بھی اسی قطار میں کھڑے رہتے ہیں۔ اندر جانے پر پتہ چلتا ہے کہ جو دستاویزات ہم لائیں ہیں وہ مکمل نہیں ہیں، کیونکہ ہائی کمیشن کی ویب سائٹ پر جو معلومات ہیں ، وہ بھی آدھی ادھوری ہیں۔‘

Image caption برطانیہ میں لاکھوں بھارتی باشندے رہتے ہیں اور ان میں سے بہت سے لوگوں کا کسی نہ کسی وجہ سے بھارتی ہائی کمیشن سے سابقہ پڑتا رہتا ہے

ان کا کہنا ہے کہ ’جب ہم دستاویز ہائی کمیشن میں کام کرنے والوں کو دیتے ہیں، تو وہ برہم ہوتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں تعصب ہے۔ لیکن جب ہم ہندوستانی ہی بھارتی ہائی کمیشن جاتے ہیں، اور ہمارے ہی افسر ہم پر چلاتے ہیں، بری طرح بات کرتے ہیں، تو بہت خراب لگتا ہے۔ بھارت اتنا بڑا آئی ٹی پاور ہے، لیکن ہمارے ہائی کمیشن کے لیے اپنی ویب سائٹ اپ ڈیٹ رکھنا مشکل ہے۔‘

اس پورے معاملے پر بی بی سی نے کئی بار ہائی کمیشن سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن ہائی کمیشن نے كوئی رد عمل ظاہر نہیں کيا۔

تاہم ہندوستان کی وزارت خارجہ نے ٹوئٹر پر اپنی بات رکھی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے ٹویٹ کیا کہ ہم لوگوں کے ’فیڈ بیک کی قدر کرتے ہیں اور ہائی کمیشن کی جانب سے صورت حال میں بہتری لانے کے لیے کیے جانے والے اقدام کا بھی ذکر کیا۔

ارون کی ہی طرح بہت سے لوگوں نے آن لائن پیٹیشن میں ہائی کمیشن کے خلاف اپنا غصہ ظاہر کیا ہے۔ اب تک 2،500 سے زيادہ لوگ اس پر اپنے دستخط کر چکے ہیں۔

Image caption لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کی خدمات پر اس آن لائن مہم سے اہم سوال اٹھے ہیں

اس آن لائن پیٹیشن کی حمایت کرنے والے ایک شخص دھرو کانٹریکٹر نے بتایا کہ وہ بھی ہائی کمیشن سے پریشان تھے اور جب ارون نے یہ مہم شروع کی تو وہ بھی اس کا حصہ بن گئے۔

دھرو بتاتے ہیں: ’جب بھی ہم جاتے ہیں تو کہتے ہیں کل آو، پرسوں آؤ، کیوں آئے ہو؟ اگر وہ لوگ ہی مدد نہیں کریں گے تو ہم کہاں جائیں گے۔ بھارتی پاسپورٹ لے کر ہم برطانوی ہائی کمیشن تو نہیں جائیں گے۔ بھارتی ہائی کمیشن میں کام کرنے والوں کا رویہ کافی خراب ہے۔‘

برطانیہ میں لاکھوں بھارتی باشندے رہتے ہیں اور ان میں سے بہت سے لوگوں کا کسی نہ کسی وجہ سے بھارتی ہائی کمیشن سے سابقہ پڑتا رہتا ہے۔

اسی بارے میں