سعودی شہریوں کو اونٹوں سے دور رہنے کا مشورہ

سعودی عرب تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زیادہ خدشات اب طبی کارکنوں میں پائے جاتے ہیں اور ان میں جدہ کے شاہ فہد ہسپتال میں شعبہ ہیماٹولوجی کے سربراہ ایمن ہمدان سیمی کی موت کے بعد مزید اضافہ ہوا ہے

سعودی عرب کی حکومت نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ پراسرار ’میرس‘ وائرس سے بچنے کے لیے اونٹوں کے قریب جاتے وقت ہاتھوں میں دستانے اور منھ پر ماسک پہنیں۔

سعودی عرب کی وزارتِ زراعت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جہاں تک ممکن ہو سکے اونٹوں سے دور رہیں اور اونٹوں کو چھونے کے بعد اپنے ہاتھوں کو فوراً دھو لیں۔

سعودی عرب میں پراسرار ’میرس‘ وائرس سے خاص طور پر طبی عملے کی ہلاکتوں کے بعد خوف و ہراس بڑھ رہا ہے۔

میرس سے سعودی عرب میں کم از کم 126 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں اور کم از کم 463 لوگ ستمبر 2012 کے بعد سے متاثر ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ میرس یعنی مڈل ایسٹ ریسیپیٹری سنڈروم، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، سانس لینے کے نظام کو متاثر کرتا ہے جس کی وجہ سے بخار، سرسام یا نمونیا اور گردے ناکارہ ہو جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اس کے انفیکشن کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صحت کی عالمی تنظیم ڈبلیو ایچ او پہلے ہی سعودی عرب کو اس وائرس یا انفیکشن کی تحقیق میں مدد کی پیش کش کر چکی ہے۔

سعودی عرب میں میرس نامی وائرس دو سال قبل سامنے آیا تھا اور تاحال نہ تو اس کے اسباب معلوم ہو سکے ہیں اور نہ ہی کوئی باقاعدہ علاج دریافت کیا جا سکا ہے۔

دبئی سے بی بی سی خلیج کے نمائندے مارک لوبل کا کہنا ہے کہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق اس پُراسرار وائرس کا دائرہ کم از کم پانچ شہروں تک پھیل چکا ہے۔

لوبل کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے رہائشی فواد نے جدہ کے ایک شاپنگ میں داخل ہوتے ہوئے ان سے موبائل فون کے ذریعے بات کی۔

ان کی آواز سے بھی محسوس کیا جا سکتا تھا کہ ان کا منھ اور ناک سرجیکل ماسک سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ پچھلے چند ہفتوں سے احتیاطاً بہت سے لوگ یہ ماسک استعمال کر رہے ہیں۔

فواد کی عمر 50 سال کے لگ بھگ ہے اور وہ ڈاکٹر ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ شاپنگ سینٹر میں ان کے اردگرد خریدار معمول سے بہت کم ہیں اور جو ہیں وہ بھی بہت پریشان دکھائی دیتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں: ’میں جب ہر صبح اٹھتا ہوں تو اپنے سینے کو جکڑا ہوا محسوس کرتا ہوں، گھبراہٹ شروع ہو جاتی ہے۔ گلے میں بھی ایسی گدگدی سی محسوس ہوتی ہے جس سے کچھ ہونے کے خدشے پیدا ہونے لگتے ہیں، ہر وقت دماغ میں یہی بات بیٹھی رہتی ہے کہ بیماری کی زد میں آنے کا وقت کسی بھی لمحے شروع ہو سکتا ہے۔‘

فواد کئی ہفتوں سے اکیلے رہ رہے ہیں۔ ان کی اہلیہ، بہن اور بچے سعودی معاشرے میں پھیلتے جاتے اس وائرس سے بچنے کے لیے ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

یہ وائرس کورونو وائرس کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ اسی خاندان میں عام زکام اور سارز کا باعث بننے والے وائرس شامل ہیں۔ اس سے بخار، نمونیا اور گردوں کی بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔

اب وائرس کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں ہسپتال میں عملے کے لوگ بھی شامل ہیں۔ فواد ذاتی طور پر جانتے ہیں کہ تین ڈاکٹر اور ایک نرس حال ہی میں میرس کے مریض پائے گئے ہیں۔

ان ڈاکٹروں اور نرس کا تعلق ان ہسپتالوں سے ہے جہاں اس وائرس کے مریضوں کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ دو ڈاکٹروں پر تو وائرس کا حملہ اتنا شدید ہوا کہ انھیں انتہائ نگہداشت کے یونٹ میں وینٹی لیٹر پر رکھنا پڑا۔

میرس کیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پچھلے چند ہفتوں سے احتیاتاً بہت سے لوگ یہ ماسک استعمال کر رہے ہیں۔

اب تک اس کی کوئی حتمی وجہ تو معلوم نہیں کی جا سکی لیکن کہا جاتا ہے کہ اس کے سبب پہلی موت سعودی عرب میں 2012 میں ہوئی۔ اس وائرس کی ابتدا سعودی عرب میں اونٹوں سے ہوئی۔

متاثرہ چار ڈاکٹروں میں سے ایک نے، جس میں ابھی علامات نمایاں نہیں تھیں، خود کو رضاکارانہ طور پر تشخیص کے لیے پیش کیا۔ وہ، دوسرے دو ڈاکٹر اور متاثر ہونے والی نرس اب بالکل صحت مند ہیں۔

ماہرین میرس کے درست اسباب کا تعین کرنے میں لگے ہیں تاہم ابھی انھیں اس میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

نشانہ بننے والوں میں سب سے زیادہ لوگ، ضعیف، کمزور اور دائمی نوعیت کے امراض رکھنے والے ہیں۔

زیادہ خدشات اب طبی کارکنوں میں پائے جاتے ہیں اور ان میں جدہ کے شاہ فہد ہسپتال میں شعبۂ ہیماٹولوجی (خون کے تجزیوں کے شعبے کے سربراہ) ایمن ہمدان سیمی کی موت کے بعد مزید اضافہ ہوا ہے۔

ایمن ہمدان سیمی وائرس کا نشانہ بننے کے بعد تین ہفتے تک وائرس سے لڑتے رہے لیکن آخر ان کے گردے جواب دے گئے۔

اسی بارے میں