یوکرین کے مشرقی علاقوں کو روس میں ضم کرنے کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روس نے کہا ہے کہ ان ریفرنڈموں کے نتائج پر بغیر کسی مزید تشدد کے عمل درآمد ہونا چاہیے

یوکرین کے روس نواز علیحدگی پسند رہنما ڈینس پشلن نے مطالبہ کیا ہے کہ اتوار کے روز ہونے والے ریفرینڈموں کے نتائج کی روشنی میں مشرقی یوکرین کو روس میں ضم ہونا چاہیے۔

دونیتسک سے تعلق رکھنے والےعلیحدگی پسند رہنما ڈینس پشلن نے کہا روس کو لوگوں کی خواہش پر کان دھرنے چاہییں۔

روس نے مشرقی یوکرین میں ہونے والے ریفرینڈموں کے نتائج پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھر مغربی ممالک نے روس نواز علیحدگی پسندوں کی طرف سے ملک کے مشرقی علاقوں لوہانسک اور دونیتسک میں کروائے جانے والے دو غیر سرکاری ریفرینڈموں کو ’ڈھونگ‘ قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے اور یورپی یونین نےروس پر مزید پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔

علیحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ لوہانسک اور دونیتسک کے علاقوں میں ’خودمختاری کے حق‘ میں بالترتیت 89 اور 96 فیصد ووٹ پڑے ہیں۔

اتوار کو بی بی سی کے نامہ نگاروں نے دیکھا کہ ووٹروں کی شناخت کے کوئی خاص انتظامات نہیں کیے گئے تھے اور لوگ بار بار ووٹ ڈال رہے تھے۔

روس نے کہا ہے کہ ان ریفرینڈموں کے نتائج پر بغیر کسی مزید تشدد کے عمل درآمد ہونا چاہیے۔

کریملن نے ایک مختصر بیان میں ان دونوں ریفرینڈموں کو ’لوگوں کی رائے‘ قرار دیتے ہوئے ان میں ’ووٹروں کی بڑی تعداد میں شرکت‘ کو سراہا۔

روس نے کیئف اور لوہانسک اور دونیتسک کے درمیان مذاکرات کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ میں سکیورٹی و تعاون کی تنظیم یہ مذاکرات کروانے میں مدد دے سکتی ہے۔

اس کے بعد روس کے وزیرِخارجہ سرگے لاوروف نے کہا کہ ان کا یوکرین میں جاری کشیدگی سے متعلق بین الاقوامی سطح پر تازہ مذاکرات کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ انھوں نے مغربی ممالک پر یوکرین میں ہونے والے واقعات کو ’پوشیدہ‘ رکھنے اور ’بے شرمی سے جھوٹ‘ بولنے کا الزام عائد کیا۔

لوہانسک اور دونیتسک سے بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پولنگ سٹیشنوں پر افراتفری کا عالم تھا اور کئی مقامات پر نہ تو ووٹر فہرستیں تھیں اور نہ ہی ووٹنگ بوتھ۔

اس سے پہلے دوسری جانب یوکرین نے ان ریفرینڈموں کو ’مجرمانہ ناٹک‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا منتظم روس ہے۔ مغربی ممالک بھی اس عمل پر تنقید کر رہے ہیں۔

یوکرین کے عبوری صدر اولیکسیندر تورچینوف نے پارلیمان سے کہا کہ ’جسے دہشت گرد علیحدگی پسند ریفرینڈم قرار دے رہے ہیں وہ ناٹک ہے جس کا مقصد قتل و غارت، اغوا، اور سنگین جرائم پر پردہ ڈالنا ہے۔‘

روس کے حامی علیحدگی پسندوں نے کئی مشرقی شہروں میں سرکاری دفاتر پر قبضہ کر رکھا ہے اور وہاں وہ یوکرین کی فوج سے زبردست معرکہ آرائی میں مصروف ہیں۔

دونیتسک کے رہنما اور باغی لیڈر ڈینس پشلین نے ایک روسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا تھا کہ نتائج کے اعلان کے بعد علاقے میں موجود تمام یوکرینی فوجیوں کو قابض فوج سمجھا جائے گا۔

یاد رہے کہ اطلاعات کے مطابق باغیوں کے قبضے والے شہر سلوویانسک کے نواحی علاقوں میں شدید لڑائی جاری ہے۔ یوکرین کی فوج نے شہر کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور اسے وہ ’انسداد دہشت گردی آپریشن‘ کا نام دیتا ہے۔

ریفرینڈم کرانے والے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسی ماہ کے اواخر میں وہ ریفرینڈم کا دوسرا مرحلہ کرائیں گے جس میں روس سے الحاق کے بارے میں سوال ہوگا۔

انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ 25 مئی کو یوکرین میں ہونے والے صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے۔

یورپی یونین اور امریکہ نے بھی ریفرینڈم کی مذمت کی ہے اور یوکرین میں خانہ جنگی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

اسی بارے میں