لٹ جانا پر شور نہ کرنا: برازیلی پولیس

برازیل تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پولیس چاہتی ہے کہ راہزنی اور لوٹ مار کی وارداتیں قتل کی وارداتیں نہ بنیں

آئندہ ماہ ہونے والے عالمی فٹ بال کپ کے لیے جہاں برازیل میں دوسرے شعبے تیاریاں کر رہے ہیں وہیں پولیس بھی تیاریاں کر رہی ہے کیوں کہ برازیل آنے والے فٹ بال شائقین کی حفاظت کا اہم ترین کام انہیں ہی کرناہے۔

برازیل پولیس نے عالمی کپ دیکھنے کے لیے آنے والے فٹ بال شائقین کے لیے احتیاطی تدابیر پر مشتمل جو پمفلٹ تیار کیا ہے اس میں مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر کوئی انھیں لُوٹنے کی کوشش کرے تو شور نہ مچائیں۔

’اسٹاڈا ڈی ساؤ پولو‘ نامی اخبار نے اس بارے میں دی جانے والی خبر کی سرخی لگائی ہے ’بحث میں پڑیں، شور نہ مچائیں‘۔

دستاویز کو تیار کرنے والی ساؤ پولو پولیس، جون میں شروع ہونے والے عالمی فٹ بال کپ دیکھنے کے لیے آنے والے شائقین کو ان کی حفاظت کے لیے عملاً کارآمد طریقے بتانا چاہتی ہے۔

یہ بروشر برازیل کے سفارتخانوں اور قونصل خانوں کے ذریعے دنیا بھر میں تقسیم کیا جائے گاتا کہ عالمی کپ کے لیے برازیل آنے کے ارادے رکھنے والوں کو ہر قسم کی ضروری معلومات حاصل ہو سکیں۔

پولیس کے مطابق لٹتے ہوئے شور نہ مچانے اور بحث مباحثے میں نہ پڑنے کا مشورہ اس لیے دیا گیا ہے کہ اس کے نتیجے میں رہزن یا لیٹرے زیادہ مشتعل ہو سکتے ہیں اور لوٹنے کی واردات قتل کی واردات میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ساؤ پولو میں پولیس کڑے حفاظتی انتظامات کر رہی ہے

ساؤ پولو میں عالمی کپ کے موقعے پر حفاظتی اقدام کے نگراں ماریو لی ایتی کا کہنا ہے ’زیادہ تر شائقین یورپ اور امریکہ سے آئیں گے جہاں انھیں اکثر اس طرح کے جرائم سے واسطہ نہیں پڑتا۔‘

شائقین کو یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ قیمیتی اشیا کی نمائش نہ کریں کیوں کہ اس طرح لٹیرے اور راہزن آپ کی طرف متوجہ ہو سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ انھیں کہا گیا ہے کہ وہ رات میں اکیلے نہ نکلیں اور نکلیں تو اس بات کا جائزہ لیتے رہیں کہ کوئی آپ کا تعاقب تو نہیں کر رہا۔

ماریو لی ایتی کا کہنا ہے کہ کچھ لوگوں کو یہ باتیں ضرورت سے زیادہ یا مضحکہ خیز احتیاط پسندی بھی لگیں گی ’لیکن یہ بعد از مرگ واویلے سے بہرطور بہتر ہیں‘۔

برازیل ان ملکوں میں سے ایک ہے جہاں قتل کی وارداتوں کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

منشیات و جرائم سے متعلق اقوام متحدہ کے شعبے نے 2012 میں جو اعداد و شمار جاری کیے تھے ان کے مطابق ہر ایک لاکھ کی آبادی میں ہر سال کم سے کم 25 افراد قتل ہو جاتے ہیں۔

اسی بارے میں