امریکی طیاروں کی مدد سے مغوی لڑکیوں کی تلاش

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکہ برطانیہ اور فرانس نے پہلے مغوی لڑکیوں کی تلاش کے لیے نائجیریائی حکومت کو تکنیکی امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ نائجیریا میں پائلٹ کی مدد سے چلنے والے جاسوسی طیاروں کے ذریعے ان مغوی لڑکیوں کو تلاش کر رہا ہے جنھیں اپریل میں شدت پسند تنظیم بوکو حرام نے سکول سے اغوا کیا تھا۔

حکام کے مطابق امریکہ نائجیریا کی حکومت کو سیٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر بھی فراہم کر رہا ہے۔

اسلامی شدت پسند گروپ بوکو حرام نے 14 اپریل کو بورنو کے ایک سکول سے 200 سے زیادہ طالبات کو اغوا کر لیا تھا جن میں سے بعض ان کے چنگل سے بھاگنے میں کامیاب بھی ہوئیں۔

نائجیریا: حکومت نے رہائی کی پیشکش مسترد کر دی

شدت پسند تنظیم بوکوحرام کیسے وجود میں آئی

پیر کو بوکوحرام نے ایک سو کے قریب مغوی لڑکیوں کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے اپنے شدت پسند ساتھیوں کی رہائی کے بدلے مغوی لڑکیوں کو رہا کرنے کی پیشکش کی تھی جسے نائجیریا کی حکومت نے مسترد کر دیا تھا۔

اس پیش رفت کے بعد امریکہ نے ان لڑکیوں کی تلاش کے لیے اٹھائے جانے والے نئے اقدامات کے بارے میں یہ معلومات ظاہر کیں ہیں۔

امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ’ہم نے نائجیریا کو سیٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر بھی فراہم کیں ہیں۔حکومت کی اجازت سے وہاں ہمارے پائلٹ کی مدد سے چلنے والے جاسوسی طیارے پرواز کر رہے ہیں۔‘

تاہم یہ بات فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی کہ تلاش کے اس کام میں کس قسم کے طیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ بغیر پائلٹ کے ڈرون طیاروں کو بھی تلاش میں مدد کے لیے استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے۔

پیر کو امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان جان ساکی نے کہا تھا کہ ان کے ماہرین بوکو حرام کی طرف سے جاری ویڈیو کا باریک بینی سی جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ لڑکیوں کو کس مقام پر رکھا گیا ہے۔

چی بوک وہ قصبہ ہے جہاں سے ان لڑکیوں کو اغوا کیا گیا تھا۔ اس قصبے سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی رہنما پوگیو بطروس نے کہا کہ ویڈیو میں دکھائی دینے والے پودے قریبی علاقے سمبیسا کے جنگلات سے مشابہت رکھتے ہیں۔

پیر کو نائجیریا کی حکومت نے بوکو حرام کی جانب سے اپنے شدت پسند ساتھیوں کی رہائی کے بدلے مغوی لڑکیوں کو رہا کرنے کی پیشکش مسترد کر دی تھی۔

مغوی لڑکیوں کی ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد نائجیریا کے وزیرِ اطلاعات مائیک عومیری نے کہا تھا کہ تمام امکانات پر غور کیا جا رہا تاہم بعد میں وزیر داخلہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تبادلے کی پیشکش کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ معصوم شہریوں کے بدلے حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کی رہائی کی کوئی آپشن زیرغور نہیں ہے۔

امریکہ برطانیہ اور فرانس نے پہلے مغوی لڑکیوں کی تلاش کے لیے نائجیریائی حکومت کو تکنیکی امداد فراہم کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔

نائجیریا کے صدر جوناتھن نے انسداد دہشت گردی کی ایک اسرائیلی ٹیم کی بھی طالبات کی تلاش میں تعاون کی بات کی تھی۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال فرانسیسی فوج القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں کو پسپا کرنے کے لیے مالی میں داخل ہوئی تھی۔

امریکہ اور برطانیہ دونوں نے اپنے فوجیوں کو شمالی نائجیریا کے وسیع علاقے میں روانہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے اتوار کو کہا تھا کہ ’اس مرحلے پر امریکی فوجیوں کو وہاں اتارنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘

بوکوحرام ایک اسلامی شدت پسند تنظیم ہے جوایسے سخت گیر نظریے کی پیروی کرتا ہے جو مسلمانوں کو کسی بھی قسم کی مغربی طرز کی سیاسی یا معاشرتی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے منع کرتا ہے۔ اس میں انتخابات میں حصہ لینا، ٹی شرٹیں پہنا یا سیکولر تعلیم حاصل کرنا بھی شامل ہیں۔

یہ شدت پسند تنظیم نائجیریا کے خلاف سنہ 2009 سے برسرپیکار ہے۔

اسی بارے میں