سعودی شہریوں کی اونٹوں کی حمایت میں مہم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ۔۔۔ابھی اب تک حتمی طور پر معلوم نہیں کہ وائرس کہاں سے آیا لیکن کہا جاتا ہے یہ سعودی عرب میں اونٹوں سے انسانوں میں پھیلا ہے

سعودی عرب میں شہریوں نے حکومت کی تنبیہ نظرانداز کرتے ہوئے اونٹوں کو گلے لگاتے اور انھیں چومتے ہوئے تصاویر اور ویڈیوز بنانا شروع کر دی ہیں۔

سعودی حکومت نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ پراسرار ’میرس‘ وائرس سے بچنے کے لیے اونٹوں کے قریب جاتے وقت ہاتھوں میں دستانے اور منھ پر ماسک پہنیں۔

سعودی عرب کی وزارتِ صحت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جہاں تک ممکن ہو سکے اونٹوں سے دور رہیں اور اونٹوں کو چھونے کے بعد اپنے ہاتھوں کو فوراً دھو لیں۔

تاہم گلف نیوز کے مطابق شہریوں نے حکومت کے مشورے کو نظرانداز کرتے ہوئے اونٹوں کے ساتھ ویڈیوز اور تصاویر بنانا شروع کر دی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اونٹوں کی حمایت میں ایک دوسرے کو پیغامات بھیجے جا رہے ہیں۔

ایک ویڈیو میں ایک شخص اونٹوں کی جوڑی کے درمیان کھڑا ہے اور ان سے کہتا ہے کہ چھینکو، میری طرف دیکھو، چھینکو، چھینکو۔ اس شخص نے اونٹوں کو گلے لگاتے اور چومتے ہوئے کہا کہ وہ (حکام) کہتے ہیں کہ ان میں ’میرس‘وائرس ہے۔ اس شخص نے بعد میں ایک اونٹنی کا سر ہلاتے ہوئے کہا کہ ’یہ کہتی ہے نہیں۔۔۔ تمہارے اندر وائرس ہے۔۔۔ یہ کہتی ہے کہ نہیں۔‘

مائیکروبلاگنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک صارف جس کا ٹوئٹر ہینڈل @fheed6666 ہے اور اس کے 90 ہزار فالورز ہیں۔ اس نے سعودی عرب کے قائم مقام وزیر صحت عادل الفقیہ کو @adelmfakeih پر #the_campaign_against_camels_exposed پر ٹویٹس کی ہیں کہ اونٹوں کے خلاف مہم بند کی جائے یا ان کے بیمار ہونے کے شواہد فراہم کیے جائیں کیونکہ اونٹ صحت مند ہیں اور بیمار لوگ شہروں میں ہیں۔

سعودی عرب میں پراسرار ’میرس‘ وائرس سے خاص طور پر طبی عملے کی ہلاکتوں کے بعد خوف و ہراس بڑھ رہا ہے۔

Image caption ویڈیو میں ایک شخص اونٹوں کی جوڑی کو پیار کرتا اور ان سے باتیں کرتا نظر آتا ہے

میرس سے سعودی عرب میں کم از کم 126 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں اور کم از کم 463 لوگ ستمبر 2012 کے بعد سے متاثر ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ میرس یعنی مڈل ایسٹ ریسیپریٹری سنڈروم، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، سانس لینے کے نظام کو متاثر کرتا ہے جس کی وجہ سے بخار، سرسام یا نمونیا اور گردے ناکارہ ہو جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

سعودی عرب میں میرس نامی وائرس دو سال قبل سامنے آیا تھا اور تاحال نہ تو اس کے اسباب معلوم ہو سکے ہیں اور نہ ہی کوئی باقاعدہ علاج دریافت کیا جا سکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی عرب میں پراسرار ’میرس‘ وائرس سے خاص طور پر طبی عملے کی ہلاکتوں کے بعد خوف و ہراس بڑھ رہا ہے

دبئی سے بی بی سی خلیج کے نمائندے مارک لوبل کا کہنا ہے کہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق اس پُراسرار وائرس کا دائرہ کم از کم پانچ شہروں تک پھیل چکا ہے۔

یہ وائرس کورونو وائرس کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ اسی خاندان میں عام زکام اور سارز کا باعث بننے والے وائرس شامل ہیں۔

اب وائرس کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں ہسپتال میں عملے کے لوگ بھی شامل ہیں۔

اب تک اس مرض کی کوئی حتمی وجہ تو معلوم نہیں کی جا سکی لیکن کہا جاتا ہے کہ اس کے سبب پہلی موت سعودی عرب میں 2012 میں ہوئی، اور اس وائرس کی ابتدا اونٹوں سے ہوئی۔

اسی بارے میں