کینسر کے لیے چندہ اکٹھا کرنے والے سٹیون چل بسے

تصویر کے کاپی رائٹ arquivo pessoal
Image caption سٹیون 15 سال کی عمر میں کینسر کے مرض میں مبتلا ہوا تھا

کینسر کے لیے چندہ جمع کرنے والے کم سن سٹیون سٹن انتقال کر گئے ہیں۔ یہ خبر ان کی ماں نے ان کے فیس بک کے صفحے پر دی ہے۔

19 سالہ سٹیون کا جو خود کینسر کے مریض تھے، تعلق سٹافرڈ شائر کے علاقے برنٹ وڈ سے تھا۔

سوشل میڈیا پر ان کی مرض کے بارے میں خبریں آنے کے بعد انھوں نے کینسر کے لیے 32 لاکھ برطانوی پاؤنڈ سے زیادہ چندہ اکٹھا کیا۔

سٹیون کی موت کی خبر دیتے ہوئے ان کی ماں جین سٹن نے کہا کہ ’سٹیون میرا ایک حوصلہ مند، بے غرض اور پرکشش بیٹا تھا۔‘

سٹیون 15 سال کی عمر میں کینسر کے مرض میں مبتلا ہوا تھا۔

اپنی بدقسمتی کا رونا رونے کے بجائے انھوں نے ان کاموں کی ایک فہرست تیار کر لی تھی جو وہ مرنے سے پہلے کرنا چاہتے تھے۔

اس فہرست پر عمل کرتے ہوئے سٹیون نے سکائی ڈائیو مکمل کی اور گذشتہ سال مئی میں ویمبلے میں یوئیفا چیمپیئن لیگ کے فائنل کے موقع پر 90 ہزار لوگوں کے سامنے ڈھول بجایا۔

سٹیون کی ماں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ’ہم سب کو معلوم ہے کہ انھیں کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ ان کی روح ان تمام کامیابیوں اور چیزوں میں زندہ رہے گی جس میں انھوں نے بہت سے لوگوں کو شریک کیا۔‘

فیس بک پر ان کی موت کی پوسٹ کو ایک گھنٹے میں ہی 1,20,000 دفعہ شیئر کیا گیا۔

ان کی موت کی خبر کے بعد ان کی طرف سے کم سن بچوں یا ٹین ایج کینسر ٹرسٹ کی مدد کے لیے بنائے گئے آن لائن صفحے پر چندے میں اضافہ ہو گیا۔

جسٹ گیونگ کمپنی نے جو سٹیون کی چندے کے لیے بنائی گئی آن لائن صفحے کو ہوسٹ کرتی ہے، کہا کہ تقربیاً دو گھنٹوں میں 60 ہزار پاؤنڈ چندہ جمع ہو گیا۔

سٹیون کی موت پر اپنے ٹوئٹر پیغام میں برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کمیرون نے کہا کہ ’سٹیون کی موت کی خبر سن کر میں بے حد اداس ہوا ہوں۔ ان کا جذبہ، بہادری اور کینسر کی تحقیق کے لیے چندہ جمع کرنا سب ہمارے لیے ایک مثال ہے۔‘

سیاستدانوں اور دیگر مشہور شخصیات نے بھی سٹیون سٹن کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

اسی بارے میں