نائجیریا بوکو حرام کو کیوں شکست نہیں دے سکا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فوج کے انسانی حقوق کے حوالے سے خراب ریکارڈ کی وجہ سے لوگ ان پر اعتماد نہیں کرتے

نائجیریا کے صدر گڈلک جوناتھن کی طرف سے ملک کے شمال مشرقی حصے میں ایمرجنسی کے نفاذ کا ایک سال مکمل ہونے کے بعد بھی ایسا لگتا ہے کہ یہ اقدام اسلامی شدت پسندی کو کنٹرول کرنے میں بہت کم کارگر ثابت ہوا ہے۔

اس دوران شدت پسند تنظیم بوکو حرام نے فوجی بیرکوں پر حملہ، کونو شہر میں بس سٹیشن پر بم دھماکے، چار بچوں سمیت فرانسیسی خاندان کے اغوا جیسی کارروائیاں کیں جو دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنی رہیں۔

ملک کے صدر نے ایمرجنسی کے نفاذ کے متعلق کہا تھا کہ اس کے ذریعے علاقے میں حالات کو معمول پر لانے کے لیے ’غیر معمولی اقدامات کیے جائیں گے۔‘

صدر گڈ لک جوناتھن نے کہا تھا کہ ’دہشت گردوں اور شدت پسندوں پر قابو پانے کے لیے فوج کو قواعد و ضوابط کے مطابق تمام ضروری کارروائی کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔‘

ایمرجنسی کے نفاذ کے 12 مہینے بعد گذشتہ چند ہفتوں کے دوران بوکو حرام نے دارالحکومت ابوجا میں کئی فوجی اڈوں پر حملے کیے اور ایک مصروف بس اڈے کو دو دفعہ بم دھماکوں سے نشانہ بنایا۔ لیکن جس بات نے انھیں دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا دیا وہ چیبوک میں ایک سکول سے 200 سے زائد لڑکیوں کا اغوا تھا۔

نائجیریا کے اخبار ڈیلی ٹرسٹ کے مدیر حبیب پیندیگا ایمرجنسی کے نفاذ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب ایمرجنسی نافذ کی گئی تو انھیں معلوم تھا کہ یہ قدم بھی آزمایا جائے گا: ’لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ یہ اقدام ناکام رہا ہے۔‘

برطانیہ میں سسیکس یونیورسٹی کی جمع کردہ معلومات کے مطابق آداماوا، بورنو اور یوبا کی ریاستوں میں ایمرجنسی کے نفاذ سے پہلے والے سال کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد 741 تھی، جبکہ ایمرجنسی کے نفاذ کے دوران گذشتہ 12 مہنیوں میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی ہلاکتوں میں تین گنا اضافہ ہونے کے بعد یہ تعداد 2265 تک پہنچ گئی ہے۔

حبیب پیندیگا کہتے ہیں کہ فوج درپیش مسائل سے نمٹ نہیں سکی۔

فوج کی انسانی حقوق کے حوالے سے خراب ریکارڈ کی وجہ سے لوگ اس پر اعتماد نہیں کرتے اور اس کے علاوہ ان کے پاس جدید ہتھیار اور ہنر بھی نہیں ہے اور ان کے حوصلے بھی پست ہیں۔

ایک برطانوی فوجی افسر جس نے نائجیریا کی حکومت کے ساتھ قریب سے کام کیا ہے، کہتے ہیں کہ نائجیریا کی حکومت شش و پنج میں مبتلا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گذشتہ 12 مہنیوں میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے

نائجیریا میں سابق برطانوی فوجی اتاشی کرنل ریٹائرڈ جیمز ہال کہتے ہیں کہ ’نائجیریائی حکومت کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایک ایسا سرخ بٹن چاہتی ہے جسے دبا کر تمام مسائل حل ہو جائیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’مجھ سے ایک سینیئر کمانڈر نے پوچھا کہ کیا ہم ان کو ایک ایسی مشین فروخت کر سکتے ہیں جس کے ذریعے یہ پتہ لگایا جا سکے کہ سڑک پر جانے والی موٹر کار میں کوئی دہشت گرد موجود ہے یا نہیں۔

’میں نے انھیں یہ بتانے کی کوشش کی کہ ایسی کوئی مشین موجود ہی نہیں ہے لیکن وہ سمجھے کہ ہم ان سے یہ مشین چھپا رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’برطانیہ ان کو تربیت میں مدد دینے کے حوالے سے احتیاط سے کام لے رہا ہے اور انھیں معیاری ہتھیار فروخت کرنے میں بھی مسائل آڑے آ رہے ہیں۔‘

انسانی حقوق کی تنظیموں ہیومن رائٹس واچ اور ایمنیسٹی انٹرنیشنل دونوں نے نائجیریا کی فوج کو ان کی حکمتِ عملی پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے مطابق مارچ میں میدیو گیوری میں فوجی بیرکوں پر حملے کے بعد فوج نے تقریباً 600 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

ان خدشات کی بنا پر برطانوی قوانین کے تحت نائجیریا کو مہلک ہتھیاروں کے فروخت پر پابندی ہے۔

نائجیریائی فوج کے بریگیڈیئر جنرل اولاجیدی لال آئی نے سات مئی کو ابوجا میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’فوج عسکریت پسندی کو روکنے کے لیے وہ سب کچھ کر رہی ہے جو کر سکتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’بغاوت کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشنز اور ملک کی تقریباً ہر ریاست میں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے کارروائیوں کی وجہ سے فوج کی افرادی قوت اور وسائل پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔‘

فوجیوں کا مورال بلند کرنے کے لیے انھوں نے اعلان کیا کہ کسی فوجی کی ہلاکت کے بعد اس کی تنخواہ خاندان کو زیادہ عرصے تک ملتی رہے گی۔

اطلاعات کے مطابق عام طور پر فوجیوں کی ہلاکت کے تین ماہ بعد ان کی تنخواہ روک دی جاتی ہے۔

لیکن بعض مبصرین کا خیال ہے کہ یہ صرف فوج کی صلاحیت کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس اس میں دیگر عوامل بھی کار فرما ہیں۔

تیل کی دولت سے مالامال نائجر ڈیلٹا سے تعلق رکھنے والے ایک سابق کارکن لیدیئم میتی کہتے ہیں کہ ’ملک بھر میں سیاسی اعتماد کا فقدان ہے۔‘

انھوں نے صدر گڈلک جوناتھن کی سیاست کو قریب سے دیکھا ہے جن کا تعلق بھی نائجر ڈیلٹا سے ہے۔

ملک کی شمال مشرقی تین ریاستوں کے سیاسی رہنماؤں کا تعلق حزب اختلاف کے اتحاد آل پروگریسیو کانگرس (اے پی سی) سے ہے۔

لیدیئم میتی کہتے ہیں کہ ’صدر کے ارد گرد افراد اور ان کے قریبی لوگ سب صدر کو یہ بتاتے ہیں کہ بوکو حرام کو شمال سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں نے سیاسی کھیل کھیلنے کے لیے تخلیق کیا ہے۔

’یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس سارے معاملے سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میدان میں موجود فوجی کمانڈروں کو بھی سیاست کرنی پڑتی ہے۔‘

لیدیئم میتی کہتے ہیں کہ ’اگر فوجی کمانڈر یہ تاثر دیں کہ حالات خراب ہیں تو انھیں نااہل قرار دیے جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس لیے وہ اپنے حکامِ بالا کو سب اچھا کی رپورٹ دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ NA
Image caption لڑکیوں کے اغوا کے معاملے پر بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے حکومت کو مجبوراً اپنا رویہ تبدیل کرنا پڑا ہے

’اور جب کشیدگی شروع ہو جاتی ہے تو کوئی بھی اس سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔‘

لڑکیوں کے اغوا کے معاملے پر بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے حکومت کو مجبوراً اپنا رویہ تبدیل کرنا پڑا ہے، اور اس نے چین، فرانس، اسرائیل، برطانیہ اور امریکہ کے ماہرین کو فوج کی مدد کرنے کی اجازت دی ہے۔

لیکن یہ ماہرین صرف مغوی لڑکیوں کی بازیابی میں مدد دیں گے، فوج کی صلاحیت بڑھانے میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔

جمیز ہال سمجھتے ہیں کہ اگر یہ غیر ملکی ماہرین نائجیریائی فوج کی صلاحیت کو بڑھانا چاہیں بھی تو یہ ایک بہت بڑا کام ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ان کی فوج کو موثر بنانے کے لیے تربیت دینے میں سالہا سال لگ جائیں گے، جس کے لیے شاید کوئی بھی تیار نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں