لیبیا: بن غازی میں جھڑپیں، 40 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption لیبیا میں سال 2011 کی مسلح بغاوت کے بعد سے مکمل طور پر استحکام نہیں آ سکا ہے

لیبیا میں وزارتِ صحت کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ بن غازی میں جمعے کو فوج کے سابق جنرل کی سربراہی میں نیم فوجی دستوں کی اسلامی ملیشیا کے ساتھ جھڑپوں میں 40 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جھڑپوں کے بعد حکومتی فوجی بھی ملیشیا کے خلاف کارروائی میں شریک ہو گئی۔

لیبیا کے قائم مقام وزیراعظم عبداللہ الثنی نے کارروائی کو’ انقلاب کا تختہ الٹنے‘ کی کوشش قرار دیا ہے۔

لیبیا کے رہنما سال 2011 میں مسلح تحریک کے نتیجے میں معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے ملک میں اسحتکام لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بن غازی میں معمر قذافی کے خلاف تحریک کا آغاز ہوا تھا اور اب یہاں اکثراوقات فوج اور اسلامی ملیشیا کے درمیان جھڑپیں ہوتی ہیں۔

جمعے کو ملیشیا کے خلاف کارروائی کی قیادت فوج کے سابق کمانڈر کرنل خلیفہ حفتار نے کی۔

عینی شاہدین کے مطابق ملیشیا کے ٹھکانوں کو ہیلی کاپٹروں اور جنگی جہازوں سے نشانہ بنایا گیا۔

تاہم لیبیا کے قائم مقام وزیراعظم عبداللہ الثنی نے طرابلس میں ایک پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کارروائی کو غیرقانونی اور بغاوت کی ایک کوشش قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ بن غازی میں داخل ہونے والی کسی بھی طاقت کو روکنے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ انھیں ریاست کی طرف سے کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے۔

’فضائیہ نے بن غازی میں غیرقانونی طور پر کارروائی کی اور انھیں ہماری طرف سے کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا۔‘

سال 2011 میں معمر قذافی کے خلاف مسلح تحریک میں کرنل حفتار سرکاری فوج سے منحرف ہو گئے تھے اور اب ایک گروپ’ قومی فوج‘ کی سربراہی کر رہے ہیں۔

اس گروپ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ بن غازی سے شدت پسندوں کا صفایا کرنے کے لیے ایک بڑی کارروائی کی گئی۔

کرنل حفتار کے حکومت پر قبضہ کرنے کے بارے میں افواہیں اس وقت پھیلنا شروع ہوئیں جب فروری میں انھوں نے فوجی یونیفام میں عام انتخابات کے انعقاد تک ملک کے انتظامی امور چلانے کے لیے ایک صدارتی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا۔

اسی بارے میں