بوکوحرام کے خلاف ’جنگ‘ کے آغاز پر اتفاق

بوکو حرام تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption گذشتہ پیر کو بوکو حرام نے ایک ویڈیو بھیجی گئی جس میں سو سے زائد مغوی طالبات کو حجاب پہنے قرآن کی تلاوت کرتے دکھایا گیا ہے۔

مغربی اور وسطی افریقہ کو دہشت گرد تنظیموں سے درپیش خطرات پر بات چیت کے لیے پیرس میں منعقدہ سربراہی کانفرنس میں افریقی رہنما اسلامی شدت پسند تنظیم بوکوحرام کے خلاف ’جنگ‘ کے آغاز پر متفق ہوگئے ہیں۔

اس اجلاس کے میزبان فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے کہا ہے کہ افریقہ کی علاقائی طاقتوں نے اس گروپ کے خلاف خفیہ معلومات کے تبادلے اور تعاون کا عزم ظاہر کیا ہے۔

نائجیریا سے تعلق رکھنے والا شدت پسند گروپ بوکوحرام حالیہ برسوں میں ہزاروں افراد کی ہلاکت کا ذمہ دار ہے اور اس نے گذشتہ ماہ ملک کے شمال مشرقی قصبے چیبوک سے 223 طالبات کو اغوا کیا تھا اور حال ہی میں اپنے ساتھیوں کی رہائی کے بدلے انھیں چھوڑنے کی پیشکش بھی کی ہے۔

سنیچر کو ہونے والے سربراہی اجلاس میں نائجیریا کے صدر گُڈ لک جوناتھن کے علاوہ بنی، کیمرون، نائیجر، اور چاڈ کے سربراہانِ مملکت شریک ہوئے جبکہ برطانیہ، امریکہ اور یورپی یونین کے نمائندے بھی وہاں موجود تھے۔

اجلاس کے آغاز پر فرانسیسی صدر نے بوکوحرام کو ’مغربی اور وسطی افریقہ کے لیے بڑا خطرہ‘ قرار دیا اور کہا کہ اس کے روابط شمالی افریقہ میں القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں سے ہیں۔

اجلاس کے بعد فرانسوا اولاند کا کہنا تھا کہ شرکا ’عالمی اور علاقائی حکمتِ عملی پر متفق ہوگئے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’اس میں خفیہ معلومات کا تبادلہ، سرحدوں کی نگرانی اور ایسی مربوط کارروائیاں شامل ہیں جن میں خطے میں موجود فرانسیسی فوج بھی شامل ہو سکتی ہے۔‘

چاڈ کے صدر ادریس دیبی کا کہنا ہے کہ علاقائی طاقتوں نے صورتحال کا مردانہ وار مقابلہ کریں گی اور بوکوحرام کے خلاف ’مکمل جنگ‘ چھیڑ دیں گی۔

اجلاس سے قبل پیرس میں موجود برطانوی وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے بی بی سی کو بتایا کہ کیمرون اور نائجیریا کو خفیہ معلومات کے تبادلے کے سلسلے میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہاں بہت سی سرحدیں ہیں جہاں بلاروک ٹوک آمدورفت جاری رہتی ہے۔ ہمارے تمام اقدامات کا پہلا مقصد مغوی لڑکیوں سے متعلق ہے لیکن اس کے لیے کیمرون اور نائجیریا جیسے ممالک کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘

ادھر نائجیریا اور اس کے ہمسایہ ملک کیمرون میں بوکوحرام کے نئے حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

کیمرون میں مبینہ طور پر بوکوحرام کے شدت پسندوں نے نائجیریا کی سرحد کے قریب واقع چینی باشندوں کے کیمپ کو نشانہ بنایا اور حکام کے مطابق اس حملے میں ایک شخص زخمی ہوا جبکہ دس افراد لاپتہ ہیں۔

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق لاپتہ ہونے والے افراد کا تعلق چینی کمپنی سائنو ہائیڈرو سے ہے۔

اس کے علاوہ جمعے کی شب نائجیریا کے شمال مشرقی علاقے میں بوکو حرام کے شدت پسندوں کے حملے میں 11 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔.

خیال رہے کہ جمعہ کو نائجیریا کے صدر گڈلک جوناتھن کو بھی سکیورٹی وجوہات کی بنا کر اس قصبے کا دورہ منسوخ کرنا پڑا تھا جہاں سے طالبات کو اغوا کیا گیا تھا۔

نائجیریا کے صدر مغوی طالبات کے ممکنہ رہائی کے لیے بوکوحرام سے مذاکرات کو پہلے ہی خارج از امکان قرار دے چکے ہیں جبکہ طالبات کے والدین ان کی غیر مشروط رہائی چاہتے ہیں۔

والدین کا یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب بوکو حرام نے ایک ایسی ویڈیو جاری کی جس میں سو کے لگ بھگ طالبات کو حجاب پہنے قرآن کی تلاوت کرتے دکھایا گیا ہے۔

اسی بارے میں