پوتن نے یوکرینی سرحد سے فوجیں واپس بلا لیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یوکرینی سرحد کے قریب تعینات 40 ہزار روسی فوجیوں کی واپسی سے یوکرینی بحران میں بہتری آ سکتی ہے

روسی ایوانِ صدر کریملن کا کہنا ہے کہ صدر ولادی میر پوتن نے یوکرین کی سرحد کے قریب تعینات روسی فوجیوں کو واپس بلا لیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ روستوف، بیلگورود اور بریانسک کے علاقوں میں تعینات یونٹ اپنے مستقل فوجی اڈّوں پر واپس چلے جائیں۔

روس نے ماضی میں بھی ایسے بیانات جاری کیے ہیں، تاہم نیٹو نے اس سے قبل کہا تھا کہ فوجی تعیناتی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

دونیتسک میں یوکرینی فوجیوں پر حملہ، 6 ہلاک

یوکرین میں کشیدگی کم کرنے کے لیے تازہ سفارتی کوششیں

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یوکرینی سرحد کے قریب تعینات 40 ہزار روسی فوجیوں کی واپسی سے یوکرینی بحران کی شدت کم ہو سکتی ہے۔

گذشتہ چند ہفتوں میں یوکرین کی سرحد پر روسی فوجیوں کی تعیناتی کی وجہ سے دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات میں کشیدگی بڑھی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق کریملن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’روستوف، بیلگورود اور بریانسک کے علاقوں میں موسمِ بہار کی فوجی مشقیں مکمل ہونے کے بعد روسی صدر نے وزیرِ دفاع کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ فوجیں واپس بلا لیں۔‘

روس اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ اس وقت ہوا تھا جب فروری میں روس کے حامی یوکرینی صدر وکتر یانوکووچ کی برطرفی کے بعد روس نے نیم خود مختار علاقے کرائمیا کا روس کے ساتھ الحاق کر لیا تھا۔

دوسری جانب یوکرینی فوج اور روس کے حامی علیحدگی پسندوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

پیر کو سلویانسک کے قریب دونیتسک کے علاقے میں علیحدگی پسندوں کے حملے میں ایک یوکرینی فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔

سنیچر کو علیحدگی پسندوں نے ’عوامی ریاست دونیتسک‘ میں وزیراعظم تعینات کر لیا ہے۔

اسی بارے میں