گانجا استعمال کرنے والے اب ایف بی آئی میں ملازمت کر سکیں گے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جیمز کامی نے یہ اعلان نیویارک میں ایک کانفرنس میں کیا

امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر غور کر رہی ہے کہ سائبر سکیورٹی کے ایسے ماہرین کو بھی ملازمت دے جو گانجے کا استعمال کرتے ہیں۔

ایف بی آئی کی موجودہ پالیسی کے تحت کسی ایسے شخص کو ادارے میں ملازمت نہیں مل سکتی جس نے گذشتہ تین سال میں گانجے کا استعمال کیا ہو۔

تاہم اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مطابق ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کامی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس پالیسی کی وجہ سے ہیکنگ کے ماہرین کو ملازمتیں دینے میں مشکلات سامنے آ رہی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق انھوں نے یہ اعلان نیویارک میں ایک کانفرنس میں کیا ہے۔

اخبار کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’میں سائبر مجرموں سے مقابلے کے لیے ایک بہترین ٹیم تشکیل دینا چاہتا ہوں اور ان میں کچھ نوجوان انٹرویو کے لیے آتے ہوئے راستے میں گانجے کا استعمال کرنا چاہتے ہیں۔‘

کانفرنس میں جب ایک شخص نے جیمز کامی سے پوچھا کہ ادارے کے لیے کام کرنے کے خواہش مند گانجا استعمال کرنے والے ایک دوست کو کیا کرنا چاہیے تو انھوں نے ہنس کر جواب دیا کہ اسے ادارے کو درخواست بھیج دینی چاہیے۔

برطانیہ میں نیشنل سائبر کرائم یونٹ کی گانجے کے حوالے سے مخصوص پالیسی نہیں ہے مگر منشیات کے استعمال پر پابندی ہے۔

نیشنل سائبر کرائم کی ترجمان نے بتایا کہ ’اگرچہ ظاہر کردہ منشیات کا ماضی میں استعمال ادارے میں ملازمت میں کے لیے رکاوٹ نہیں، ہم اپنے درخواست گزاروں سے کہتے ہیں کہ اگر آپ نے گذشتہ 12 ماہ میں غیر قانونی منشیات استعمال کی ہیں تو ہمیں درخواست نہ بھیجیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’تعیناتی سے قبل تمام نئے ملازمین کا ڈرگ ٹیسٹ ہوتا ہے جس کے بعد ہی ملازمت یقینی ہوتی ہے۔ نوکری مل جانے کے بعد تمام ملازمین کا کسی بھی وقت ٹیسٹ لیا جا سکتا ہے۔‘

ملازمت کے بعد ان افراد کو این سی اے کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہونا پڑتا ہے جن میں مخبری کی بنیاد پر اچانک منشیات کا ٹیسٹ بھی شامل ہے۔

ایک ماہر کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی کی جانب سے ایسی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرنا درست فیصلہ ہے۔

یونیورسٹی آف کیمبرج کے ڈاکٹر رچرڈ کلیٹن کا کہنا ہے کہ ’جس طرح کے ہیکر آپ رکھنا چاہتے ہیں وہ زیادہ تر نوجوان ہوتے ہیں جنھیں گانجا استعمال کرنے کی عادت ہوتی ہے اور آپ امید کرتے ہیں کہ وہ وقت کے ساتھ ساتھ اسے کم کر دیں گے۔

’ساتھ ساتھ میرا یہ بھی خیال ہے کہ ایف بی آئی اور نیشنل کرائم یونٹ کو ملازموں کے حوالے سے اس لیے بھی مسئلہ ہے کہ وہ نجی سیکٹر کے مقابلے میں انتہائی کم تنخواہیں دیتے ہیں۔‘

برطانیہ کے سیکریٹری برائے دفاع نے نومبر میں بی بی سی کے ایک پروگرام میں کہا تھا کہ نیشنل کرائم یونٹ ایسے لوگوں کو ملازمتیں دینے پر غور کر رہا ہے جن کو کسی جرم کسی سزا مل چکی ہو، اگرچہ فی الحال اس پر پابندی ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ ہر کیس میں یہ دیکھا جائے گا کہ جرم کس نوعیت کا اور کتنا پرانا تھا۔

تاہم ڈاکٹر کلیٹن کو اس حوالے سے خدشہ ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہیکنگ کرنا بہت بری بات ہے اور اگر آپ پکڑے گئے تو آپ کی زندگی تباہ ہو جائے گی۔ بعد میں اگر ہم یہ پیغام دیں کہ چلیں کچھ ماہ جیل میں گزارنے کے بعد آپ کو نوکری مل جائے گی تو اس سے مسئلہ بگڑے گا۔ شاید ایسے ہونا چاہیے کہ آپ کی پالیسی یہ ہو کہ جرم کے پانچ سال تک نوکری نہیں دی جا سکتی۔‘

اسی بارے میں