نائجیریا: بم دھماکوں میں 118 ہلاک، متعدد زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ملبے تلے مزید لاشوں کی موجودگی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے

نائجیریا کے صدر گڈلک جوناتھن نے جوس شہر میں ہونے والے دہرے بم دھماکوں کی مذمت کی ہے جن میں کم از کم 118 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

نائجیریا کی قومی ایمرجنسی مینیجمنٹ ایجنسی کا کہنا ہے کہ اب تک کم از کم 118 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ اس میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

صدر جوناتھن نے کہا ہے کہ جنھوں نے یہ بم دھماکے کیے ہیں وہ ’ظالم اور برے لوگ‘ ہیں۔

پہلا دھماکہ شہر کے ایک مصروف بازار میں ہوا جب کہ دوسرا دھماکہ اس کے قریب ہی ایک ہسپتال کے باہر ہوا۔ دھماکوں میں مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ابھی تک کسی گروہ نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم نائجیریا میں سرگرم شدت پسند تنظیم بوکو حرام حالیہ بم دھماکوں میں ملوث رہی ہے۔

اسی گروہ نے گذشتہ ماہ شمال مشرقی شہر چیبوک کے ایک سکول سے 200 سے زیادہ طالبات کو اغوا کر لیا تھا جنھیں ابھی تک رہا نہیں کرایا جا سکا۔

صدر نے کہا کہ وہ دہشت گردی سے لڑنے کے لیے پرعزم ہیں حالانکہ سکیورٹی کی فراہمی میں ناکامی کے لیے ان پر تنقید ہو رہی ہے۔

قومی ایمرجنسی مینیجمنٹ ایجنسی کے رابطہ کار محمد عبدالسلام نے کہا: ’ہم نے ملبے سے اب تک 118 لاشیں نکالی ہیں۔ اس میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ابھی بھی ایسا ملبہ ہے جسے ہٹایا نہیں جا سکا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ابھی تک کسی بھی گروہ نے بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے

انھوں نے بتایا کہ ان دھماکوں میں 56 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

حالیہ برسوں کے دوران جوس شہر میں عیسائی اور مسلمان گروہوں کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔

صوبائی گورنر کے ایک ترجمان نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ان دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین شامل ہیں۔ بازار اور بس ٹرمینل شہر کے تجارتی مراکز میں شامل ہیں۔

دوسرا دھماکہ پہلے دھماکے کے 30 منٹ بعد ہوا جس میں بعض امدادی کارکن بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

مقامی صحافی حسن ابراہیم نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور نوجوانوں نے بعض راستوں کو بند کر دیا ہے جبکہ مذہبی رہنما عوام سے امن قائم رکھنے کی اپیل کر رہے ہیں۔

دارالحکومت ابوجا میں موجود بی بی سی کے ول راس کا کہنا ہے کہ یہاں پہلے بھی دھماکے ہوتے رہے ہیں جن میں مختلف مذاہب کے لوگ مارے جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایمرجنسی ایجنسی نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین شامل ہیں

ان کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں میں مارے جانے والوں میں کسی خاص مذہب کے ماننے والے شامل نہیں ہوتے بلکہ زیادہ تر ایسے لوگ ہوتے ہیں جو کام دھندے کی تلاش میں سڑکوں پر نکلتے ہیں۔

دارالحکومت ابوجا میں بی بی سی کے محمد کبیر محمد نے بتایا کہ ہسپتال میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ایسی لاشیں وہاں لائی جا رہی ہیں جن کی شناخت انتہائی مشکل ہے۔

جوس میں ایک طالب علم ایو تمبے اومیزیا نے بی بی سی کو بتایا: ’دوسرا دھماکہ میرے قریب ہی ہوا۔ میں نے اپنی کار میں سوار ہونے کی کوشش کی۔ میں مدد کے لیے چلا رہا تھا۔ میں نے بہت سی لاشیں دیکھیں۔ دھماکے کے بعد لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگ ہر طرف بھاگ رہے تھے۔‘

نائجیریا کے صدر گڈلک جوناتھن نے ان دھماکوں کو ’انسانی آزادی پر افسوس ناک حملہ‘ قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے۔

دھماکے دانستہ طور پر ایسی ہی جگہوں پر کیے گئے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔

جوس شہر میں تقریباً دو سال پہلے کئی بم دھماکے ہوئے تھے جن میں گرجاگھروں پر بم پھینکے گئے تھے۔

اسی بارے میں