روس نے چین کے ساتھ گیس معاہدے پر دستخط کر دیے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چین روس کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور سنہ 2013 میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم 90 ارب ڈالر تھا

روس کے صدر ولادی میر پوتن نے چین کے ساتھ 30 سال کے لیے اربوں ڈالر کی مالیت کےگیس کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

یہ معاہدہ روس کی گیس پروم کمپنی اور چین کی نیشنل پیٹرولیم کمپنی کے درمیان دس برس کے لیے طے پایا ہے۔

اس معاہدے میں گیس کی سرکاری قیمت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا لیکن اندازے کے مطابق اس معاہدے کی مالیت 400 ارب ڈالر ہے۔

خیال رہے کہ یوکرین میں جاری بحران اور یورپی یونین کی ممکنہ پابندیوں کی وجہ سے روس اپنی گیس کی متبادل توانائی کی مارکیٹ کی تلاش میں ہے۔

روس اور چین کے درمیان اس معاہدے پر شنگھائی میں دستخط کیے گئے اور اس سے چین کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت کو سنہ 2018 سے ہر سال 38 ارب مکعب میٹر گیس ملا کرے گی۔

اس معاہدے کا اہم جزو گیس کی قیمت تھی اور یہ سمجھا جا رہا ہے کہ چین نے ایک مشکل سودا کیا ہے۔

گذشتہ دس سالوں کے دوران چین کو دوسرے گیس سپلائرز مل گئے ہیں۔

ترکمانستان اب چین کا سب سے بڑا غیر ملکی گیس سپلائر ہے اور گذشہ برس سے چین نے برما سے قدرتی گیس درآمد کی ہے۔

خیال رہے کہ چین روس کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور سنہ 2013 میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم 90 ارب ڈالر تھا۔

اسی بارے میں