برسلز میں یہودیوں کے عجائب گھر پر فائرنگ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکام کے مطابق ایک مشتبہ شخص کی تلاش جاری ہے

بیلجیئم کےدارالحکومت برسلز میں حکام کے مطابق یہودیوں کے عجائب گھر پر ایک مسلح شخص کی فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد کی ہلاکت کے بعد ملک بھر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

پولیس نے فائرنگ کے واقعے کے فوری بعد ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا ہے اور ایک دوسرے مشتبہ شخص کی تلاش جاری ہے۔

یورپ میں یہودیوں کے خلاف جذبات میں اضافہ

حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ میں ہلاک ہونے والوں میں دو خواتین اور ایک مرد شامل ہے اور انھیں چہرے یا گردن پر گولیاں لگی ہیں۔

حکام کے مطابق اس واقعے میں زخمی ہونے والے چوتھے شخص کی حالت تشویشناک ہے۔

برسلز کے میئر کے مطابق ممکنہ طور پر یہ ’دہشت گردی کی کارروائی‘ ہے۔

اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے ایک بیان میں واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہودیوں کے خلاف نہ ختم ہونے والے جذبات کے نتیجے میں یہ واقعہ رونما ہوا ہے۔

بیلجیئم میں 42 ہزار کے قریب یہودی آباد ہیں اور ان میں سے نصف برسلز میں رہائش پذیر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فائرنگ کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا اور تاحال اس کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے

اس سے پہلے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق حملہ آور ایک گاڑی کے ذریعے عجائب گھر پہنچا اور وہاں گاڑی سے باہر نکل کی عجائب گھر کے مرکزی دروازے پر فائرنگ شروع کر دی۔

اطلاعات کے مطابق فائرنگ کے بعد حملہ آور گاڑی میں دوبارہ بیٹھ کر فرار ہو گیا۔

بیلجیئم کے وزیر خارجہ ڈیڈئیر رینڈرز جائے وقوعہ پر سب سے پہلے پہنچنے والوں میں شامل تھے۔ وزیر خارجہ کے بقول انھیں مسلح حملے پر صدمہ ہوا ہے۔

’میں نے فائرنگ کی آوازیں سنی تو فوراً یہاں پہنچا تو زمین پر لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔‘

مقامی میڈیا کے مطابق حملہ آور سنیچر کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر دو بجے کے قریب عجائب گھر پہنچا اور فائرنگ کے بعد کار میں فرار ہو گیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق ہو سکتا ہے کہ عینی شاہدین نے گاڑی کا رجسٹریشن نمبر نوٹ کر کے اسے پولیس حکام کے حوالے کر دیا ہو۔

اسی بارے میں