صومالی پارلیمان پر الشباب کے حملے میں 10 ہلاک

Image caption صومالیہ میں پچھلے دو عشروں میں بدامنی کا دور دورہ ہے

افریقی ملک صومالیہ کے دارالحکومت موغا دیشو میں پارلیمان پر شدت پسند تنظیم الشباب کے حملے کے نتیجے میں دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دی گئیں اور صومالی پولیس اور افریقی اتحاد کے فوجیوں نے حملہ آوروں کے خلاف جوابی کارروائی میں حصہ لیا ہے۔

الشباب سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے سینیچر کی دوپہر پارلیمان کے دروازوں کے قریب کار بم دھماکہ کیا جس کے بعد مزید دھماکے اور فائرنگ کی گئی۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے پولیس کنٹرول روم کے حوالے سے بتایا ہے کہ کار بم دھماکے کے فوری بعد ارکان پارلیمان کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا جبکہ حملہ آور اب بھی پارلیمان کے قریب واقع ایک مسجد سے فائرنگ کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے کے مطابق شدت پسندوں کے حملے میں چار پولیس افسر ہلاک ہوئے ہیں تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ حملہ آور عمارت میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے کہ نہیں۔

Image caption شدت پسند تنظیم الشباب کا تعلق القاعدہ سے ہے

شدت پسند تنظیم الشباب کے ترجمان نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’نام نہاد صومالی پارلیمان فوجی علاقہ ہے اور ہمارے جنگجو وہاں ایک مقدس کارروائی کے لیے گئے ہیں۔‘

صومالیہ میں افریقی اتحاد کے امن مشن کے ایک ترجمان کے مطابق شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں افریقی یونین کے فوجی صومالی پولیس کی مدد کر رہے ہیں۔

موغادیشو میں واقع پارلیمان پر اس سے پہلے بھی شدت پسند متعدد بار حملے کر چکے ہیں۔

اس سے پہلے رواں سال فروری میں صدارتی محل پر الشباب کے حملے میں 16 افراد مارے گئے تھے۔

الشباب کو اگست 2011 میں دارالحکومت موغادیشو سے نکال دیا گیا تھا۔

اگرچہ یہ شدت پسند تنظیم اب اپنے زیرِ اثر بیشتر قصبات اور شہروں کا کنٹرول کھو چکی ہے لیکن اب بھی یہ ملک کے کئی دیہی علاقوں کو کنٹرول کرتی ہے۔

الشباب نے اپنے زیرِ اثر علاقے میں سخت گیر شرعی قوانین نافذ کیے ہیں جن میں خواتین کو بدکاری پر سنگسار کرنا اور چوروں کے ہاتھ کاٹنے جیسی سزائیں شامل ہیں۔

اسی بارے میں