بغاوت کے بعد تھائی فوج کا کریک ڈاؤن جاری

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تھائی لینڈ میں فوجی بغاوت کے بعد چھ اعلیٰ فوجی حکام کو ملک چلانے کی ذمہ داری دی گئی ہے

تھائی لینڈ میں فوجی بغاوت کے بعد فوج کی جانب سے کریک ڈاؤن جاری ہے اور فوج نے معروف دانشوروں سمیت مزید 35 افراد کو طلب کیا ہے۔

یہ حکم نامہ معزول وزیر اعظم ینگ لک شناواترا سمیت 100 سیاستدانوں کی بنکاک میں ایک فوجی مرکز میں پیشی کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔

معزول وزیر اعظم ینگ لک کو جمعے کو حراست میں لے لیا گیا تھا اور انھوں نے حراست میں ہی رات بسر کی۔

تھائی لینڈ کی فوج کی جانب سے جاری ہونے والی تازہ ترین فہرست میں وہ افراد بھی شامل ہیں جن پر پہلے ہی شاہی حکومت کے خلاف بولنے کے الزمات عائد ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب سینکڑوں مظاہرین نے فوج کی جانب سے اختیارات لینے کے خلاف غصے کا اظہار کرنے کے لیے دارالحکومت بینکاک کی سڑکوں پر احتجاج کیا۔

مظاہرین نے احتجاج کے دوران فوجی بغاوت کے خلاف بینرز اٹھا رکھے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ معزول وزیرِاعظم مز ینگ لک کو ایک ہفتے سے زیادہ حراست میں نہیں رکھا جائے گا لیکن اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ان کی حراست ضروری تھی جب تک کہ ملکی مسائل کو ترتیب و تنظیم میں نہیں لایا جاتا۔

ینگ لک کو اسی ماہ عدالت نے وزیر اعظم کے عہدے سے معزول کردیا تھا۔ جن 100 سیاست دانوں کو فوج نے طلب کیا تھا ان میں ینگ لک کے علاوہ کارگزار وزیر اعظم نواتھمرونگ بونگسونگفیسان بھی شامل تھے۔

تھائی لینڈ کے فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ سیاست دانوں کو حراست میں اس لیے لیا گيا ہے تاکہ انھیں ’سوچنے کا موقع دیا جا سکے۔

تاہم انھوں نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ انھیں کہاں رکھا گیا ہے۔ انھوں نے البتہ یہ ضرور بتایا کہ ان لوگوں سے ان کا موبائل فون لے لیا گيا ہے۔

جمعے کو فوجی سربراہ جنرل پرایوتھ چان اوچا نے اہم حکام سے ملاقات کی اور کہا کہ کسی انتخاب سے قبل اصلاحات ضروری ہیں۔

انھوں نے گورنروں، تجارتی سربراہوں اور سول سروینٹز کو بنکاک آرمی کلب طلب کیا۔

فی الحال فوج کے چھ بڑے حکام کو ملک چلانے کے لیے تعینات کیا گیا ہے اور صوبائی کمانڈروں سے کہا گیا ہے کہ وہ مقامی حکومت کی نگرانی کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فوج کا کہنا ہے کہ انتخابات سے قبل ملک میں اصلاحات ضروری ہیں

بنکاک میں بی بی سی کے جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ گذشتہ فوجی بغاوت کے برخلاف اس بار جلد عوامی حکومت کی بحالی کی بات نہیں کہی گئی ہے۔

جنرل پرایوتھ نے میٹنگ میں کہا تھا: ’میں تمام سول سرکاری اہلکاروں سے یہ چاہتا ہوں کہ وہ ملک کو منظم کرنے میں مدد کریں۔ ہمارے لیے انتخاب سے قبل، معاشی، سماجی اور سیاسی اصلاحات کرنا ضروری ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر حالات پرامن رہتے ہیں تو ہم حکومت عوام کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

واضح رہے کہ تھائی لینڈ میں فوج کے سربراہ نے فوجی بغاوت کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوج نے حکومت سنبھال لی ہے۔

ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ فوج نظم و ضبط بحال کرے گی اور سیاسی اصلاحات متعارف کروائے گی۔

امریکہ سمیت دنیا کے متعدد ممالک نے تھائی لینڈ میں فوجی بغاوت اور فوج کے حکومت سنبھالنے کی مذمت کی ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ بغاوت کا کوئی جواز نہیں تھا اور امریکہ کی جانب سے دی جانے والی دس ارب ڈالر کی امداد کو روکا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption معزول وزیر اعظم ینگ لک کو رات حراست میں ہی بسر کرنی پڑی

فرانس اور جرمنی نے بھی فوجی بغاوت کی مذمت کی ہے اور اقوام متحدہ نے اس اقدام پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یاد رہے کہ فوج نے منگل کو ملک کی اہم سرکاری عمارتوں کا کنٹرول سنبھال کر مارشل لا نافذ کر دیا تھا۔ اس موقعے پر فوج کا کہنا تھا کہ ملک کی سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کو بغاوت سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا موقف تھا کہ ملک میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ایک عرصے سے جاری کشمکش اور سیاسی بحران کے بعد فوج نے مارشل لا نافذ کیا ہے۔

دریں اثنا امریکہ نے تھائی لینڈ کو دی جانے والی 35 لاکھ ڈالر کی فوجی امداد روک دی ہے اور فوج سے عوامی حکومت کو بحال کرنے کے لیے کہا ہے۔

واشنگٹن نے سیاحوں سے تھائی لینڈ کے پروگرام منسوخ کرنے کا کہا ہے اور امریکی حکام کے تمام غیر ضروری دوروں کو روک دیا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ ’فوجی بغاوت‘ کا کوئی جواز نہیں تاہم ایک اور امریکی اہلکار کے مطابق امریکہ تھائی لینڈ کے ساتھ پہلے سے جاری فوجی مشقیں جاری رکھے گا۔

ملک کے عبوری وزیر اعظم کے چیف سکیورٹی ایڈوائزر کا کہنا تھا کہ فوج کے فیصلے کے بارے میں حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔

اسی بارے میں