یوکرین: صدارتی انتخاب میں پیٹرو پروشینکو کا کامیابی کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیٹرو پروشینکو کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ سال پارلیمانی انتخابات کی حمایت کریں گے

یوکرین میں معروف کاروباری شخصیت اور کنفکشنری کے بڑے تاجر پیٹرو پروشینکو نے صدارتی انتخابات میں کامیابی کا دعویٰ کر دیا ہے۔

ایگزٹ پولز یعنی پولنگ سٹیشنوں پر کیے گئے جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ پروشنکو نے تقریباً 55 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔

اپنی فتح کا اعلان کرتے ہوئے 48 سالہ تاجر کا کہنا تھا وہ یورپی یونین کے ساتھ قریب تر تعلقات مرتب کریں گے اور خطے میں امن قائم کریں گے۔

تاہم یوکرین کے مشرق میں موجود روس حامی علیحدگی پسندوں نے صدارتی انتخاب کی مخالفت کرتے ہوئے ووٹنگ میں خلل ڈالنے کی دھمکی دی تھی۔

یوکرین میں حالیہ دنوں حکومتی افواج اور باغیوں میں ہونے والی لڑائی میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ملک مشرقی علاقے دونیتسک اور لوہانسک میں ہونے والے پر تشدد واقعات نے انتخابات کی تیاریوں کو بہت حد تک متاثر کیا ہے۔ ان علاقوں میں کوئی پولنگ سٹیشن بھی ووٹروں کے لیے کھولا نہیں گیا۔

واضح رہے کہ فروری میں سابق صدر کی روس نواز پالیسیوں کے خلاف عوامی مظاہروں کے نتیجے میں یانوکووچ کو اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔

ان کی برطرفی کے بعد اب وہاں صدارتی انتخابات منعقد کیے جا رہے ہیں۔

غیر سرکاری نتائج کے مطابق ووٹر ٹرن آوٹ 45 فیصد رہا۔

کیئف میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے پیٹرو پروشینکو کا کہنا تھا کہ وہ آئندہ سال پارلیمانی انتخابات کی حمایت کریں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ روس کی جانب سے کرائمیا کے الحاق کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔

روس کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ان کے لیے ’یوکرین کی خودمختاری اور علاسائی سالمیت‘ سے سے اہم ہے۔

دریں اثنا روس کے صدر ولادی میر پوتن نے جمعے کو پہلی بار کہا تھا کہ وہ نتائج کا احترام کریں گے اور جو بھی صدر منتخب ہوگا اس کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں۔

یوکرین کے بعض باشندوں کا خیال ہے کہ ان انتخابات کے بعد ملک میں امن بحال ہو جائے گا۔

پوتن نے یوکرین میں رواں ماہ منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات کو ’درست سمت‘ کی جانب قدم قرار دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption غیر سرکاری نتائج کے مطابق ووٹر ٹرن آوٹ 45 فیصد رہا

کیئف اور اس کے حامی مغربی ممالک روس پر یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ روس یوکرین کے مشرقی علاقوں میں علیحدگی پسندی کو ہوا دے رہا ہے تاہم صدر پوتن ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

یورپ کی تنظیم برائے سلامتی اور تعاون (او ایس سی ای) نے پولنگ سٹیشنوں پر اپنے ایک ہزار سے زیادہ مبصرین تعینات کیے ہیں تاہم سلامتی کے پیشِ نظر او ایس سی ای نے اپنے زیادہ تر مبصرین مشرقی دونیتسک کے علاقے سے ہٹا لیے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق خود ساختہ دونیتسک پیپلز ریپبلک کے ایک رہنما ڈینس پشیلین نے کہا ہے کہ ’اگر ضرورت ہوئی تو ہم طاقت کا استعمال کریں گے۔‘

دونیتسک اور لوہانسک کے علیحدگی پسندوں نے 11 مئی کو ہونے والے ریفرینڈم کے بعد اپنے علاقوں کی آزادی کا اعلان کر دیا تھا جسے کیئف اور اس کے مغربی حلیف تسلیم نہیں کرتے۔ ان دونوں علاقوں نے کرائمیا کے ریفرینڈم کی طرز پر یہ ریفرینڈم کرائے تھے۔

مارچ میں روس نے کرائمیا کے علاقے کو اپنے ملک میں شامل کر لیا تھا۔

اسی بارے میں