فوجی بغاوت کے خلاف مظاہرے، سابق وزیرِاعظم رہا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ینگ لک کو جمعے کو اہلِ خانہ سمیت حراست میں لیا گیا تھا

تھائی لینڈ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق حکمران فوجی حکومت نے ملک کی سابق وزیرِ اعظم ینگ لک شناوترا کو دو دن حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا ہے۔

ملک کی حکمران فوجی کونسل کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ معزول وزیراعظم کو سیاسی سرگرمیوں سے دور رہنے اور بغیر اجازت ملک نہ چھوڑنے کو کہا گیا ہے۔

تھائی لینڈ میں گذشتہ منگل کو مارشل لا کے نفاذ کے بعد فوج کے سربراہ نے جمعرات کو فوجی بغاوت کا اعلان کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اب حکومت فوج نے سنبھال لی ہے۔

اس کے بعد جمعے کو ینگ لک شناواترا سمیت 100 سیاستدانوں کی بنکاک میں ایک فوجی مرکز میں طلب کیا گیا اور اس پیشی کے بعد ینگ لک کو ان کے اہلِ خانہ سمیت حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

فوجی حکام نے ان کی گرفتاری کی توجیح پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی حراست اس وقت تک ضروری ہے جب تک کہ ملکی مسائل کو ترتیب و تنظیم میں نہیں لایا جاتا۔

سابق وزیرِ اعظم کے علاوہ ملک کے دیگر سیاستدانوں، دانشوروں اور فوجی بغاوت کے ناقدین کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ سیاست دانوں کو حراست میں اس لیے لیا گيا ہے تاکہ انھیں ’سوچنے کا موقع دیا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بینکاک میں فوجی بغاوت کے خلاف تیسرے دن بھی مظاہرے ہوئے ہیں

دوسری جانب بینکاک میں فوجی حکومت کی تنبیہ کے باوجود بغاوت کے خلاف تیسرے دن بھی چھوٹے پیمانے پر مظاہرے ہوئے ہیں اور پولیس نے متعدد مشتعل مظاہرین کو حراست میں لیا ہے۔

فوجی جنتا نے اتوار کو ملک کے اٹھارہ اخبارات کے مدیران کو بھی طلب کیا ہے۔

بینکاک میں فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں عام جمہوری اصولوں کا نفاذ نہیں کیا جا سکتا۔

فی الحال فوج کے چھ بڑے افسران کو ملک چلانے کے لیے تعینات کیا گیا ہے اور صوبائی کمانڈروں سے کہا گیا ہے کہ وہ مقامی حکومت کی نگرانی کریں۔

بنکاک میں بی بی سی کے جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ گذشتہ فوجی بغاوت کے برخلاف اس بار جلد عوامی حکومت کی بحالی کی بات نہیں کہی گئی ہے۔

امریکہ سمیت دنیا کے متعدد ممالک نے تھائی لینڈ میں فوجی بغاوت اور فوج کے حکومت سنبھالنے کی مذمت کی ہے۔

امریکہ نے تھائی لینڈ کو دی جانے والی 35 لاکھ ڈالر کی فوجی امداد روک دی ہے اور فوج سے عوامی حکومت کو بحال کرنے کے لیے کہا ہے۔

فرانس اور جرمنی نے بھی فوجی بغاوت کی مذمت کی ہے اور اقوام متحدہ نے اس اقدام پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں