سعودی عرب میں نو پروفیسرگرفتار

سعودی عرب
Image caption سعودی عرب میں گرفتار کیے جانے والے نو میں سات مشتبہ پروفیسر سعودی عرب کے ہمسایہ ملک کے شہری بتائے جاتے ہیں

سعودی حکام نے ملک میں کالعدم تنظیم اخوان المسلمین کے ساتھ مبینہ تعلق کی وجہ سے یونیورسٹی کے نو پروفیسروں کو گرفتار کر لیا ہے۔

ذرائع نے روزنامہ اوکاز کو بتایا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ پروفیسر اخوان المسلمون نامی غیر ملکی تنظیم کے ساتھ آّڈیو اور الیکٹرانک رابطوں کے ذریعے منسلک تھے۔ یاد رہے کہ سعودی عرب میں اخوان المسلمون پر پابندی ہے۔

اخبار کے مطابق ’باخبر ذرائع‘ نے انھیں بتایا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے پروفیسروں کے خلاف تفتیش جاری ہے اور امکان ہے کہ یہ تفتیش آئندہ ہفتے تک مکمل ہو جائے گی۔

اخبار کا مزید کہنا ہے کہ نو میں سات مشتبہ پروفیسر سعودی عرب کے ’ایک ہمسایہ ملک کے شہری ہیں۔‘

ذرائع کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ تمام افراد کو قید اور جرمانے کے سزا ہو جائے گی۔ ’غیر ملکیوں کو سعودی عرب سے ہمیشہ کے لیے نکال دیا جائے گا جب کہ دونوں مقامی افراد کو دس سے 15 سال تک قید کی سزا ہو جائے گی۔‘

اس سال سات مارچ کو سعودی عرب نےاخوان المسلمین کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے، اس پر پابندی لگا دی تھی۔ اس کے علاوہ سعودی عرب میں قائم حزب اللہ کی شاخ، ’عراق کی مملکت اسلامی‘ نامی جہادی تنظیم اور القاعدہ سے منسلک تنظیم ’النصرت فرنٹ‘ پر بھی سعودی مملکت میں کام کرنے پا پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں کسی بھی قسم کی شدت پسندی کو برداست نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی مسجدوں کو فرقہ وارانہ پیغامات کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

دوسری جانب ملک کے مذہبی حکام نے بھی خبردار کر رکھا ہے کہ جو لوگ اپنے خطبوں میں قانون سے روگردانی کرتے ہیں اور کالعدم تنظیموں کے ساتھ روابط رکھتے ہیں انھیں بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا۔

سعودی قانون کے مطابق کسی کالعدم تنظیم کے ساتھ تعلق ثابت ہونے کی صورت میں آپ کو 20 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

دو ہفتے قبل سعودی عرب نے تین مبلغین پر ’عمر بھر کے لیے‘ کسی بھی مسجد یا کیمپوں میں نماز جمعہ میں خطبہ دینے اور امامت کرنے پر پابندی لگا تھی۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب سرکاری حکام کے مطابق انھیں معلوم ہو گیا کہ ان تینوں مذہبی رہنماؤں کے دیگر عرب ممالک میں سرگرم اخوان المسلمون کے ساتھ تعلقات تھے۔

سعودی عرب سے موصول ہونے والی اطلاعات میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سرکاری حکام نے ایسے 76 اماموں، مذہبی شخصیات اور لیکچراروں پر نظر رکھی ہوئی ہے جن کے بارے میں شبہہ ہے کہ وہ اخوان کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

اسی بارے میں