’انگلینڈ پہنچ کر دم لوں گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کیلے کے ساحل پر تارکین وطن نے خیمے لگا رکھے ہیں

تقریباً ایک ہزار تارکین وطن جو کچھ عرصے سے فرانس کے ساحلی قصبے کیلے میں نہایت برے حالات میں رہ ہیں، ان میں قریباً دو سو ایسے ہیں جن کا تعلق افغانستان سے ہے۔

بی بی سی افغان سروس کے بشیر بختیار نے برطانیہ اور فرانس کے درمیان سمندری پٹی ’انگلش چینل‘ کی دوسری جانب جا کر کئی افغانوں سے ملاقات کی جو کیلے میں عارضی کیمپوں میں اس امید پر رکے ہوئے ہیں کہ وہ ایک دن انگلش چینل کو عبور کر کے برطانیہ پہنچ جائیں گے۔

ان افراد میں وہ شخص بھی شامل ہے جس کا نام اس ماہ اِس وقت شہ سرخیوں میں آ گیا تھا جب وہ ایک ٹوٹی پھوٹی کشتی میں سمندر عبور کر کے برطانیہ پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا اور اس کی جان ایک فرانسیسی کشتی میں سوار سرکاری اہلکاروں نے بچائی تھی۔

کیلے میں پھنسے ہوئے افغان جس جگہ کو اپنا گھر کہہ رہے تھے وہ ایک متروک ریلوے لائین پر پلاسٹک کے تھیلوں اور شِیٹوں سے بنایا ہوا ایک عارضی کیمپ ہے جہاں نہ تو پانی ہے، نہ بجلی اور نہ ہی کھانے کو کچھ ہے۔

ان کی یہ عارضی رہائش گاہ کیلے کی بندرگاہ سے صرف چند سو میٹر کے فاصلے پر ہے جہاں سے روز چھوٹے بحری جہاز سینکڑوں لوگوں کو فرانس اور برطانیہ کے درمیان سفر کی سہولتیں فراہم کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption افغان تارکین ملک کے مخلتف علاقوں سے آئے ہیں لیکن سب کی منزل ایک ہی ہے اور وہ ہے لندن

یہ افغان باشندے اپنے حالات سے سخت بیزار ہیں اور ان کا گذارا پُورے دن میں صرف ایک کھانے پر ہے جو ایک مقامی امدادی ادارے کی طرف سے دیا جاتا ہے۔

یہ لوگ ہر رات چپکے سے اپنے عارضی خیموں سے نکل کر اس امید پر ساحل پر آ جاتے ہیں کہ کسی طرح برطانیہ جانے والے کئی ٹرکوں میں سے کسی پر چڑھ کر چھپ جائیں اور یوں برطانیہ پہنچ جائیں۔

میں نے جن لوگوں سے ملاقات کی ان میں سے کچھ کے پاس عارضی طور پر اٹلی میں رہنے کے اجازت نامے بھی موجود تھے۔اس کے باوجود یہ لوگ برطانیہ پہنچنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ برطانیہ میں کام ملنا آسان ہے۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ اٹلی میں ملازمت کے مواقع ناکافی ہیں اور چونکہ ان کے کاغذات انھیں قانونی طور پر سفر کی اجازت نہیں دیتے، اس لیے وہ غیر قانونی راستہ اپنا رہے ہیں۔

ان افراد میں 33 سالہ آصف بھی شامل ہیں جن کی کہانی ان تارکین وطن کی ہمت کی عکاس ہے جو ہر قیمت پر کسی دوسرے ملک پہنچنا چاہتے ہیں۔ اِسی ماہ آصف کا نام اس وقت اخباروں میں آیا جب وہ اپنی بنائی ہوئی کشتی پر انگلش چینل کو عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ٹرک میں چھپ کر برطانیہ پہنچنے کے منصوبے میں بار بار ناکام ہونے کے بعد آصف نے کیلے کی گلیوں میں پھینکے ہوئے کوڑ کباڑ میں سے لکڑی اور پلاسٹک کے ٹکڑے جمع کیے اور ان سے ایک کشتی بنائی اور بادبان کی جگہ بستر کی پرانی چادر لگا لی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption آصف کے خیال میں یہاں سے برطانیہ کا فاصلہ سب سے کم ہے

آصف نے ریت کی ٹیلوں کے پیچھے مجھے وہ جگہ دکھائی جہاں سے انھوں نے مئی کی ایک صبح اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ ان کے خیال میں فرانسیسی ساحل پر واقع اس مقام سے برطانیہ کے ساحل کا فاصلہ سب سے کم ہے۔

’یقین کریں سمندر کا پانی روئی کی طرح نرم ہوتا ہے۔‘

چکمکتی دھوپ میں انگلش چینل میں فراٹے بھرتی ہوئی موٹر والی کشتیوں کی جانب دیکھتے ہوئے آصف کا کہنا تھا کہ ’ سمندر کے راستے سفر کرنا اتنا خطرناک نہیں جتنا چلتے ہوئے ٹرکوں پر چڑھنا۔‘

آصف کا کہنا تھا کہ ان کی ذاتی کشتی نے ان کا اچھا ساتھ دیا اور وہ ’تاریک پانیوں‘ تک پہنچ گئے تھے، لیکن وہاں ہوا نے رخ بدل لیا اور ان کی کشتی کو واپس فرانسیسی ساحل کی جانب دھکیل دیا۔ تھوڑی ہی دیر میں جان بچانے والے اہلکاروں کے کشتی وہاں آ گئی اور انھیں ڈوبے سے بچا لیا۔

ساحل سے واپس آ کر جب ہم آصف کے چھوٹے سے خیمے میں بیٹھے تو آصف نے مجھے اپنے لندن پہنچنے کے خواب کے بارے میں مذید بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ لندن ’یورپ کا ستارہ‘ ہے اور وہ گذشتہ دس سال سے اپنے خواب کو سچ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آصف کا تعلق کابل شہر کے شمال میں واقع موسئی کے علاقے سے ہے اور وہ ایک کسان کے بیٹے ہیں۔ انھوں نے طالبان دور کے آخری سالوں میں افغانستان کو خیرباد کہا اور بہتر زندگی کی تلاش میں نکل پڑے۔

آصف نے بتایا کہ مخلتف ممالک میں ان کا سفر زیادہ تر غیر قانونی ہی تھا جس دوران وہ ترکی، یونان، کروشیا، سلاوینیا، اٹلی اور سؤٹزر لینڈ گئے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ تقریباً ہر ملک میں ایک سال تک رکے، پیسے جمع کیے اور اپنے اگلے سفر پر نکل پڑے۔

آصف کی کہانی کیلے کے کیمپوں میں پھنسے ہوئے زیادہ تر لڑکوں اور مردوں کی کہانیوں سے ملتی جلتی ہے جن میں ہر کسی کو برطانیہ پہنچنے کے خواب کو پورا کرنے کے لیے بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کچھ باتیں آصف نے اپنے تک ہی رکھیں

لیکن ہوتا یہ ہے کہ برطانیہ پہنچنے کے خواہش مند لوگوں میں سے کئی فرانس کے اِس ساحلی قصبے میں پھنس جاتے ہیں۔مقامی لوگ اس بات سے زِچ آئے ہوئے ہیں، اور کچھ مقامی لوگوں کو ان تارکین وطن پر اتنا غصہ ہے کہ آپ یہاں پہنچتے ہی اسے محسوس کر لیتے ہیں۔

جب میں اور آصف ساحل کی طرف جا رہے تھے تو کئی لوگ ہمیں کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہے تھے اور ایک شخص نے تو ہماری جانب دیکھ کر اپنی اگلی سے گلا کاٹنے کا اشارہ بھی کِیا۔

کیلے میں مقامی لوگوں کا غصہ سمجھ میں آتا ہے، کیونکہ افغانوں سمیت کئی دیگر ممالک کے تارکین وطن کئی سالوں سے اِسی راستے سے برطانیہ پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایک گیراج میں کام کرنے والے مقامی افراد نے اپنی بیزاری کو چھپانے کی کوئی کوشش نہیں کی اور ان کا کہنا تھا کہ ان کے شہر کی شہرت خراب ہو چکی ہے۔ گیراج میں کام کرنے والی ایک خاتون نے مجھے بتایا کہ انھیں سمجھ نہیں آ رہی کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے۔

’لگتا ہے یہ سلسلہ کبھی نہیں تھمے گا۔ آپ جتنے لوگوں کو جگہ دیتے ہیں، اُتنے مذید یہاں پہنچ جاتے ہیں۔‘

مجھے اس خاتون کی بات میں خاصی سچائی نظر آئی کیونکہ میں جن افغانوں سے ملا ان میں سے تقریباً ہر ایک برطانیہ پہنچے کی کوشش کئی بار چکا تھا۔

اپنی کشتی میں سمندر عبور کرنے کی ناکام کوشش کے باوجود آصف نے دل نہیں ہارا اور ان کے بقول انھیں کوئی پچھتاوہ نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک اور کوشش ضرور کریں گے۔

کب اور کیسے؟

یہ بات آصف نے اپنے تک ہی رکھی ہے۔

اسی بارے میں