برازیل: مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سینکڑوں مظاہرین نے قومی سٹیڈیم تک پہنچنے کی کوشش کی جہاں ٹورنامنٹ کا سنہری کپ رکھا گیا ہے

برازیل کے دارالحکومت برازیلیا میں پولیس نے فٹ بال عالمی کپ کے انعقاد کے مخالف اور قبائلی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

سینکڑوں مظاہرین نے قومی سٹیڈیم تک پہنچنے کی کوشش کی جہاں ٹورنامنٹ کا طلائی کپ رکھا گیا ہے۔ انھوں نے سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ بھی کیا۔

قبائلیوں کا ایک گروہ زمین کے حقوق کا مطالبہ کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption قبائلیوں کی جانب سے چلایا گیا تیر لگنے سے ایک پولیس اہلکار زحمی ہو گیا

برازیل میں فٹ بال کے عالمی کپ پر اٹھنے والے اخراجات کے خلاف مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

حکام کے مطابق منگل کو ہونے والے مظاہرے میں 1500 افراد نے شرکت کی۔ انھوں نے شہر کی ایک مرکزی شاہراہ کو بھی بند کر دیا ہے۔

ہجوم نے جو قومی سٹیڈیم کی جانب جانے کی کوشش کی جہاں کئی میچ کھیلے جانے ہیں تو گھوڑوں پر سوار پولیس اہلکاروں نے ان کا راستہ روک دیا۔

جب صورتحال کشیدہ ہوئی تو پولیس نے متعدد بار مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

اس ہجوم میں قبائلیوں کا ایک گروہ بھی شامل ہو گیا۔ یہ لوگ کانگرس کی عمارت پر چڑھ گئے اور اپنی اراضی کی حد بندی کے طریقہ کار میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔

اطلاعات کے مطابق لڑائی کے دوران قبائلیوں کی جانب سے چلایا گیا تیر لگنے سے ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا ہے۔ تیر اس کی ٹانگ میں لگا۔

مظاہرین نے برازیلیا میں گھنٹوں ٹریفک روکے رکھی۔

گذشتہ برس لاکھوں افراد نے عالمی کپ پر اٹھنے والے اخراجات اور بدعنوانی کے خلاف اور عوامی سہولیات میں بہتری کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک بھر میں مظاہرے کیے تھے۔

تب سے اب تک برازیل میں متعدد مرتبہ مظاہرے ہو چکے ہیں جن میں سے کئی تشدد کے بعد ختم ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جب صورتحال کشیدہ ہوئی تو پولیس نے متعدد بار مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا

اسی بارے میں