میں نچلے درجے کا اہلکار نہیں ماہر الیکٹرانک جاسوس تھا: سنوڈن

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’امریکہ انسانوں کی بہ نسبت کمپیوٹرز کے ذریعے زیادہ بہتر خفیہ معلومات حاصل کرتا ہے‘

امریکی انٹیلیجنس کے راز فاش کرنے والے سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کا کہنا ہے کہ وہ الیکٹرانک جاسوسی کے ماہر جاسوس تھے نہ کہ ایک کم درجے کے اہلکار۔

انھوں نے یہ انکشاف امریکی ٹی وی چینل این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔

انھوں نے انٹرویو میں اس بات کو دہرایا کہ وہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے لیے بیرون ملک خفیہ مشنز پر تعینات رہے ہیں۔

ایڈورڈ سنوڈن نے کہا کہ امریکہ انسانوں کی بہ نسبت کمپیوٹرز کے ذریعے زیادہ بہتر خفیہ معلومات حاصل کرتا ہے۔

یاد رہے کہ مئی 2013 میں تیس سالہ سنوڈن امریکہ سے بھاگ گئے تھے اور آج کل وہ روس میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

پچھلے سال انھوں نے این ایس اے کی خفیہ دستاویزات مختلف اخبارات کو دیے جن میں واشنگٹن پوسٹ اور گارڈیئن میں شامل ہیں۔

این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں سنوڈن نے کہا کہ وہ ایک تربیت یافتہ جاسوس ہیں۔ ’میں نے بیرون ملک خفیہ طور پر کام کیا اور مجھے ایک فرضی نام بھی دیا گیا تھا۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک تکنیکی ماہر تھے اور ان کا کام لوگوں کو جاسوسی کے لیے بھرتی کرنا نہیں تھا۔

’میرا کام امریکہ کے لیے نظام مرتب کرنا تھا۔ اور یہ کام میں نے نیچے سے لے کر اوپر تک تمام سطح پر کیا ہے۔ اب امریکی حکومت اس کی تردید کرے اور کہے کہ ہاں یہ ایک نچلے درجے کا اہلکار تھا۔‘

سنوڈن نے مزید کہا کہ انھوں نے سی آئی اے اور این ایس اے کے لیے کام کیا ہے اور ڈیفنس اینٹیلیجنس ایجنسی میں لیکچر بھی دیے ہیں۔

ایڈورڈ سنوڈن کو امریکہ میں جاسوسی کے الزامات کا سامنا ہے لیکن انھیں روس نے پناہ دی ہوئی ہے۔

یس سالہ سنوڈن امریکہ میں قومی سلامتی کے ادارے کی جانب سے دنیا میں ٹیلیفون اور انٹرنیٹ کے نظام کی نگرانی کے پروگرام کا راز افشا کرنے کے بعد رواں برس جون میں امریکہ سے فرار ہو کر روس پہنچ گئے تھے۔

انہیں روسی حکام نے عارضی طور پر پناہ فراہم کی ہے اور وہ جولائی 2014 تک روس میں رہ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں