’میڈیا کامیاب امیدوار کا ہی ساتھ دینا چاہے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ x
Image caption یہاں غیر جانبدار میڈیا جیسی کوئی چیز نہیں ہے:البیر شفیق

مصر کے مقامی صحافیوں سے بات کرو یا مقامی نجی ٹی وی چینلز دیکھو یا دارالحکومت قاہرہ میں مقیم شہریوں سے بات کرو یہی سننے کو ملتی ہے کہ صدارتی انتخابات کے فاتح سابق فوجی جنرل فاتح قرار پائیں گے حالانکہ انتخابات کے نتائج کا اعلان پانچ جون کو متوقع ہے۔

حال ہی میں بھارت ، افغانستان اور پاکستان کے انتخابات میں کانٹے دار مقابلہ دیکھنے کے بعد یہ بات بڑی چبتی ہے کہ آخر اگر سب کو معلوم ہے کہ جیتنا کس نے ہے تو پھر ان صدارتی انتخابات کی کیا اہمیت ہے مگر اس کی تفصیل میں ہم پانچ جون کے بعد ہی جائیں گے۔

ابھی بات کرتے ہیں کہ مصر کے مقامی میڈیا کی جو حسنی مبارک کا تختہ الٹنے کے تین برس بعد ہونے والے صدارتی انتخابات کی کوریج کس طرح کر رہا ہے۔ اور یہ بھی کہ ووٹر ٹرن آؤٹ میں کمی رپورٹ ہونے کے باوجود یہاں مصر کے فوج کےسابق سربراہ عبدالفتاح السیسی کو بظاہر عوامی مقبولیت کیوں حاصل ہے۔

مصر کے مقامی میڈیا کے صحافتی اقدار پر وزراتِ اطلاعات خود ایک بیان جاری کر چکی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ مقامی میڈیا کے بعض حلقوں نے غیر جانبدرا رہنے کا خیال نہیں رکھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صدارتی امیدوار حمدان سباہائی کی ہار اْن سمیت سب نے جیسے پہلے ہی سے مان لی ہو

حالانکہ توازن برقرار رکھنا اتنا مشکل نہیں کیونکہ صرف ایک ہی امیدوار السیسی کے مدِ مقابل ہے جو کہ سنہ 2012 کے صدارتی انتخابات میں بھی سب سے زیادہ ووٹ لینے والے تیسرے امیدوار تھے۔ حمدان سباہائی کی ہار اْن سمیت سب نے جیسے پہلے ہی سے مان لی ہو۔ ان کی انتحابی مہم کے اثرات بھی کم ہی نظر آتے ہیں۔

مقامی میڈیا کے بیشتر حلقوں نے جیسے تسلیم کر لیا ہے کہ جنرل السیسی کے علاوہ نہ تو قوم کی اور نہ ہی ان کی مدد کوئی کر سکتے ہوں۔

پولنگ سٹیشنز پر ووٹروں کا انتظار اس طرح کرنا پڑا جیسے پاکستان میں کسی ٹرین کے چلنے کا۔ ایک پولنگ سٹیشن پر تین گھنٹے گزارنے کے بعد بھی گنتی کے ووٹرز نظر آئے۔ ان میں سے بھی زیادہ تر نے السیسی کو ہی ووٹ دیا۔ اس فضا کو قائم کرنے میں شاید بعض کاروباری مفادات بھی شامل ہیں۔

میڈیا کے حوالے سے بحث آج کل پاکستان میں بھی کافی زور پکڑ رہی ہے مگر مصر میں بیشتر مقامی میڈیا کھلے عام اپنے پسندیدہ امیدوار کے قصیدے پڑ رہے ہیں۔

نجیب سیویریس مصر کے چوتھے امیر شحض اور ایک مقامی ٹی وی چینل کے مالک بھی۔ یہ ان کا صرف ایک کاروبار ہے۔ وہ مشرق وسطیٰ کے علاوہ پاکستان میں سب سے بڑی موبائل کمپنی کے بھی مالک ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’مجھے ہمارے سامنے بہت بڑے مسائل نظر آ رہے ہیں اور کوئی بھی ان مسائل کو حل نہیں کر سکتا سوائے ایک ہی شحض کے (یعنی السیسی کے)۔‘

ایک ٹی وی چینل کے ڈائریکٹر جنرل البیر شفیق نے نے کہا ’یہاں غیر جانبدار میڈیا جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔ ہر کسی کا کسی نہ کسی سیاسی سوچ کی طرف زیادہ رجحان ہوتا ہے۔ جیسے کہ فوکس نیوز امریکہ میں ریپبلیکنز کی حمایت کرتا ہے تو سی این این چینل ڈیموکریٹس کی۔ میرے خیال میں ہر میڈیا کے مالک کا یہ حق ہے کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت کرے اور میری نظر میں یہ بالکل غلط نہیں۔ ہمارا حق ہے کہ ہم جس مرضی امیدوار کی حمایت کریں۔‘

یہ سوچ اکثر مقامی میڈیا کی کارگردگی سے عیاں ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں غیر سرکاری انسٹیٹیوٹ آف میڈیا سٹڈیز سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر عادل عبدالغفار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہم دیکھتے آئے ہیں کہ حکومت انتخابات کے بعد نجی میڈیا کے مفادات کا خیال رکھتی ہے۔ ان کو مالی فوائد مل گئے اور شاید یہی وجہ ہے کہ مصر میں سرکاری میڈیا کے علاوہ پرائیویٹ میڈیا بھی ایک ہی امیدوار کی حمایت کر رہا ہے۔ اور شاید یہ بھی کہ اب عوامی مقبولیت کا پرچار کرنے والا میڈیا کامیاب امیدوار کا ہی ساتھ دینا چاہے گا۔‘

اس کے ساتھ ساتھ اگر اپنے مخالفین کو کڑی سزائیں دینے کے بعد معاشرے میں ویسے ہی خوف پھیلا دیا جائے تو شاید فاتح کا تعین کرنا اتنا مشکل نہیں رہتا۔ کس طرح کے سوالات لوگوں سے پوچھے جائیں، کن لوگوں سے بات کی جائے اور کن کے قریب نہ جایا جائے، کون سی لائن لی جائے، خود مصر کی فوج کے بنائے ہوئے قوانین پر کھلے عام عمل درآمد دیکھ کر ان بعض صحافیوں کی مشکلات کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے جو کہ یا تو جاسوسی کے نام پر جیل میں پڑے ہیں یا پھر زیرِ حراست اپنے ٹرائل کے لیے بھوک ہڑتال پر ہیں۔

مصر کی کاروباری زندگی کی سیاست سے شادی بہت پہلے ہی ہو چکی تھی۔ یہ رشتہ ماضی کی طرح پائدار محسوس ہوتا ہے۔ جس کے بعد تین برس پہلے آنے والے انقلاب کے بعض شرکا کا بھی السیسی کی حمایت کرنا اتنی حیران کن کی بات نہیں لگتی۔

مصر میں اس ساری صورت حال سے جمہوریت کے عالمی عالمبردار بھی بظاہر کچھ زیادہ پریشان نہیں لگتے شاید اسی لیے مصر میں فوج کا سیاست میں مداخلت کرنا عام اور معمولی بات ہے۔

اسی بارے میں