روس اپنی سرحد کو بند کرے: یوکرین کے وزیرِاعظم

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یوکرین کی فوج مشرقی صوبوں لوہانشک اور دونیتسک میں علیحدگی پسندوں کے ساتھ نبرد آزما ہے

یوکرین کے وزیرِاعظم آرسنیات سنوک نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرحد کو بند کرے تاکہ ’دہشت گرد‘ یوکرین میں داخل نہ ہو سکیں۔

آرسنیات سنوک نے کہا کہ ملک میں جاری بحران پر جلدی قابو پا سکتے ہیں اگر روس ان کے معاملات میں داخل اندازی بند کرے۔

ادھر روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے خبردار کیا کہ کیئف کی پالیسیاں یوکرین کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

جرمنی کے دورے کے دوران آسنیات سنوک نے کہا کہ ملک کے مشرقی علاقوں میں حالات بگڑ رہے ہیں اور روسی مداخلت کی وجہ سے بہت مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’اسلحے سے بھرے کئی ٹرک اور روس کی طرف سے تربیت یافتہ جنگجو روسی سرحد پار کر یوکرین میں داخل ہو گئے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم روس اور ولادی میر پوتن سے کہتے ہیں کہ وہ یوکرین کے ساتھ روسی سرحد کو بند کریں۔ اگر روس مداخلت بند کرے تو ہم اس کشیدگی کو ایک ہفتے میں حل کر سکتے ہیں۔‘

اس ہفتے کے اوئل میں ملک کی فوج اور علیحدگی پسندوں کے درمیان اس کشیدگی کی سب سے شدید لڑائی ہوئی ہے۔

علیحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ دونیتسک کے ہوائی آڈے پر قبضہ کرنے کے لیے سرکاری فوج کے ساتھ لڑائی میں ان کے سو جنگجو مارے گئے۔

یوکرین کی وزارتِ داخلہ کا دعویٰ ہے کہ فوج کا دونیتسک کے ہوائی اڈے پر مکمل کنٹرول ہے تاہم بدھ کو بھی فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔

یوکرین کے سابق ارب پتی اور سابق وزیرِ خارجہ 48 سالہ پیٹرو پروشینکو کو پیر کو حالیہ صدارتی انتخابات میں باقاعدہ کامیاب قرار دیا گیا تھا۔ انہوں نے 54 فیصد ووٹ حاصل کیے۔

اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکریٹری بان گی مون نے یوکرین کے نومنتخب صدر کو انتخابات میں واضح کامیابی پر مبارک باد دی ہے۔

نومنتخب صدر پیٹرو پروشینکو نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ ’یوکرین صومالیہ نہیں بنے گا۔‘

یوکرین کی فوج مشرقی صوبوں لوہانشک اور دونیتسک میں علیحدگی پسندوں کے ساتھ نبرد آزما ہے جنہوں نے خودمختاری کا اعلان کیا ہے۔

یوکرین میں یہ بغاوت اس وقت شروع ہوئی جب روس کے حامی صدر وکٹر یانوکوچ کو یورپ کے ساتھ زیادہ قریبی تعلقات کے مطالبے پر پرتشدد مظاہروں کے بعد معزول کردیا گیا تھا۔

اس کے بعد روس نے یوکرین کے جنوبی علاقے کرائمیا کے خطے کے ساتھ الحاق کر لیا تھا۔

اسی بارے میں