بلیئر بش بات چیت کا خلاصہ جاری کرنے پر مفاہمت

بلیئر بش تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption عراق کی جنگ کے بارے میں برطانیہ کی شمولیت کے بارے میں کئی پہلوؤں سے تحقیقات ہو چکی ہے۔

چلکوٹ انکوائری سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے درمیان عراق جنگ میں برطانیہ کی شمولیت کے بارے میں ہونے والی بات چیت کا خلاصہ جاری کرے گی۔

اس کا انکشاف انکوائری کی چیئرمین سر جان چلکوٹ نے ایک خط میں کیا ہے جو سر جرمی کے نام لکھا گیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ گفتگوؤں کے حساس حصے جاری نہیں کیے جائیں گے کیوں کہ اس سے دونوں ملکوں کے مابین تعلقات پر اثر پڑ سکتا ہے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان اس معاملے پر گفتگوؤں کی 130 ریکارڈنگز اور ٹونی بلیئر کے 25 نوٹ ہیں۔

اس انکوائری پر اب تک 70 لاکھ پاؤنڈ ہو چکے ہیں۔ انکوائری 2011 میں شروع ہوئی تھی۔

ابھی خلاصہ جاری کرنے کی تاریخ کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا تاہم یہ طے کیا گیا ہے کہ اس سال کے آخر تک جاری کیے جانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔

جو خلاصہ جاری کیا جائے گا اس میں دونوں رہنماؤں کے اصل الفاظ استعمال نہیں کیے جائیں گے۔

خلاصےکی اشاعت سے قبل ان تمام لوگوں کو آگاہ کیا جائے گا اور ان کا ردِعمل لیا جائے گا جن پر خلاصے کے اشاعت کے بعد تنقید کا امکان ہو گا تا کہ وہ اپنا موقف بھی شامل کر سکیں۔

کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ خلاصہ بھی 2015 سے پہلے شائع نہیں ہوگا۔ عام طور پر ایسی دستاویزات تیس سال بعد شائع کی جاتی ہیں۔

اسی بارے میں