خانہ کعبہ کے ساتھ پاؤں ٹکانے پر تنازع

Image caption مکّہ کے گورنر شہزادہ مشعل بن عبدللہ بن عبدالعزیز نے اس واقعے کی تحقیقات اور تادیبی کارروائی کا حکم دیا ہے

سعودی پولیس اہلکار کی ایک تصویر نے جہاں عرب دنیا میں اشتعال پھیلا دیا ہے وہیں اس کے لیے ہمدردی کی ایک لہر بھی پیدا ہوئی ہے۔

اس تصویر میں وہ اہلکار اُس مقام سے پاؤں ٹکائے کھڑا جس کا مسلمان طواف کرتے ہیں۔

یہ تصویر بڑے پیمانے پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیئر کی گئی اگرچہ تاحال یہ معلوم نہیں کہ یہ تصویر کس نے کھینچی۔

ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ سے یہ رائے دی گئی کہ ’یہ دنیا میں مقدس ترین مقام ہے، دیکھو یہ کیسے اس کی توہین کر رہا ہے۔‘

ایک دوسرے میں کہا گیا ’لوگ ساری عمر صرف ایک مرتبہ خانہ کعبہ کو چُھونے کے آرزو کرتے ہیں لیکن یہ شخص کتنا گستاخ ہے۔‘

ایک ہیش ٹیگ (#عسكري_يضع_قدمہ_على_الكعبۃ ) 17000 مرتبہ استعمال کیا گیا جس کا مطلب ہے کہ ’فوجی نے اپنا پاؤں کعبہ پر رکھا‘۔

یہ تصویر کئی خبروں کی ویب سائٹس پر بھی شائع کی گئی جس پر کئی قارئین نے اس کی اشاعت پر اعتراض کیا۔

اطلاعات ہیں کہ مکّہ کے گورنر شہزادہ مشعل بن عبدللہ بن عبدالعزیز نے اس واقعے کی تحقیقات اور تادیبی کارروائی کا حکم دیا ہے۔

عرب دنیا میں کسی مقدس چیز کے ساتھ جوتے لگانا توہین سمجھا جاتا ہے۔ حکام نے شروع میں کہا کہ اس اہلکار نے جوتے نہیں پہن رکھے لیکن مسجد کا عملہ عام طور پر ربڑ کے یہ چپل پہنتا ہے۔

اب ٹوئٹر پر کئی لوگ اس پولیس اہلکار کے دفاع میں بھی بولنے لگے ہیں۔ کئی کا کہنا ہے کہ ’وہ یقیناً بہت تھک گیا ہو گیا اور کچھ دیر کو سستانا چاہتا ہوگا۔‘

ایک ٹویٹ میں کہا گیا ’یہ احمقانہ بات ہے، ضرورت ہے کہ لوگ اپنی ترجیحات واضح کریں۔‘

کئی لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ تصویر بذاتِ خود ذومعنی ہے ایک ٹویٹ میں پوچھا گیا ’حج کے دوران کون تھا جو تصویرین اتار رہا تھا۔‘

کہا جا رہا ہے کہ شہزادہ مشعل نے پولیس حکام سے کہا ہے کہ وہ ایسی تربیتی کورسز کا اہتمام کریں جن میں پولیس اہلکاروں کو بتایا جائے کہ مسجد میں کس طرح پیش آنا ہے۔

اسی بارے میں