’صدر اوباما کی مشکل تو ایک اور بھی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ۔۔۔صدر اوباما کے مطابق امریکی خارجہ پالیسی میں اب زیادہ توجہ مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ پر رہے گی

آرا مشین سے چرائی گئی لکڑی کا، پاس کے بڑھئی کی ہزاروں منّتوں سے بنا تھا کرکٹ کا وہ بلّا(کرکٹ بیٹ)۔ سات آٹھ اینٹوں کو ایک کے اوپر ایک رکھ کر بنی وکٹ کے سامنے لکڑی کے اس پٹرے کو لے کر محلّہ کرکٹ کے گواسکر، وشوناتھ اور ظہیر عباس جب بیٹنگ کرنے اترتے تھے تو اسی انداز میں کہ آج تو مائیکل ہولڈنگ ہوں یا ڈینس للی کسی کی خیر نہیں ہے۔

اور پھر کارک کی گیند پوری رفتار سے آتی تھی، بلّے سے ٹکراتی تھی۔ جاتی کہاں تھی یہ یاد نہیں لیکن اس پٹرے کی گرفت کرنے والے ہاتھوں میں جو جھنجھناہٹ ہوتی تھی، جو کرنٹ لگنے کا احساس ہوتا تھا وہ اب بھی یاد ہے۔ لیکن پھر بھی اس لکڑی کے پٹرے کو سنبھال کر رکھا جاتا تھا۔ کسی نے قلم سے اس پر بریڈمین بھی لکھ رکھا تھا۔

’اوباما اب پھنسنا نہیں چاہتے‘

پھر محلے میں ایک رئیس زادہ آیا۔ اس کے پاس کرکٹ کی وہ بیٹ تھی جس کی تصاویر ہم نے کھیل کھلاڑی اور سپورٹس ورلڈ میگزین کے صفحات پر دیکھی تھیں۔ وہ بلاّ ہم میں سے بیشتر کے لیے ایک طرح کا خواب تھا جسے ہم زندہ رکھتے تھے تصویر والے ان صفحات کو سکول کی کاپی کتابوں پر جلد چڑھا کر۔

وہ اپنی بیٹ لے کر ہمارے ساتھ کھیلنے آيا۔ لیکن اس کی ایک شرط تھی۔ بلاّ اس کا ہے تو سب سے پہلے بیٹنگ وہ کرے گا۔ ہمیں شرط منظور تھی اور آہستہ آہستہ ہمیں اس بلّے کی عادت پڑنے لگی۔ ہمارا لکڑی کا پٹرا اب صرف رنرز بیٹ کی طرح استعمال ہوتا تھا۔ لیکن پھر کچھ اور بھی ہوا۔

Image caption پانچ سال قبل اوباما جي نے تقریر کی تھی کہ افغانستان میں فوج کی تعداد ایک لاکھ سے بڑھا کر فتح حاصل کریں گے

ہم اس رئیس زادے سے بہتر بیٹنگ کرنے لگے۔ میدان میں وہ بلّا اس سے زیادہ دوسرے کے ہاتھوں میں ہوتا۔ رائیس زادے کی جھنجھلاہٹ بڑھنے لگی تھی۔ بلے کو ایسے نہیں ویسے پکڑو، اسے زمین پر مت پٹكو کی شکایتیں تیز ہونے لگیں۔ اور پھر اس نے ایک نیا باوونسر ڈالا۔

وہ جیسے ہی آؤٹ ہوتا، بلا لے کر گھر چل دیتا۔ کہتا ہوم ورک کا ٹائم ہوگیا، ٹیوشن کے ٹیچر آنے والے ہیں۔ کھیل وہیں ختم ہو جاتا۔ ہماری عادت اتنی خراب ہو چکی تھی کہ لکڑی کے اس پرانے پٹرے سے کھیلنا اب ہمیں گوارا نہیں تھا۔ ہم اب اس کے غلام تھے۔

آگے کی کہانی پھر کبھی۔ لیکن جب صدر اوباما نے افغانستان میں کھیل سمیٹنے کا اعلان کیا تو پتہ نہیں کیوں بچپن کا وہ رئیس زادہ یاد آ گیا۔

ضرور ان کی بھی ہوم ورک کی مجبوریاں رہی ہوں گی۔ گھر والوں سے انھوں نے کہہ رکھا تھا کہ 2014 کے اواخر تک کھیل ختم ہو جائے گا، وقت پر گھر واپس آئیں گے، سو ہو گیا۔ کھیل ابھی مکمل نہیں ہوا تھا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔

پانچ سال قبل اوباما جي نے تقریر کی تھی کہ افغانستان میں فوج کی تعداد ایک لاکھ سے بڑھا کر فتح حاصل کریں گے، افغان شہریوں کے ساتھ ایک طویل رشتہ قائم کریں گے، مل کر القاعدہ کو ختم کریں گے، جمہوریت کو مضبوط کریں گے، گاؤں اور شہروں میں سکول اور کالج کھلیں گے، لڑکیاں بھی آزادی سے پڑھیں گي اور جاب بھی کریں گی۔

سب تو حاصل ہو گیا

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption افغانستان میں افغان فوج کو سکیورٹی کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے

اب افغانستان چمک رہا ہے۔ طالبان یا القاعدہ کا دور دور تک اتہ پتہ نہیں، انتخابات ہو چکے ہیں، دوسرا دور ہونے والا ہے، نئی حکومت آنے والی ہے۔ افغان فوج اب کسی سے بھی ٹکر لے سکتی ہے۔ ہر طرف امن امان کا بول بالا ہے۔

ایسا نہیں ہے کیا؟ چلیے کوئی بات نہیں۔ اب اوباماجي کا کہنا ہے کہ سب کچھ ٹھیک کرنے کی ذمہ داری امریکہ کی تو ہے نہیں، افغانستان کا مستقبل افغان لوگوں کو طے کرنا ہے۔

ہم نے کب کہا کہ سب کچھ امریکہ کی ذمہ داری ہے۔ لیکن سرجي کھیل پوا تو ہو جانے دیتے۔ تھوڑے دن اور رک جاتے تو اچھا ہوتا۔ اوپر سے آپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ 2016 کے بعد میدان بالکل خالی کر دیں گے۔ یعنی القاعدہ اب نئے سرے سے گھر بسانے کی تیاری شروع کر لے۔ بس دو سال کسی طرح اور کاٹنا ہے۔

1989 کے بعد جب امریکہ نے میدان خالی کیا تھا تو اسامہ اینڈ پارٹی کو ایک سے ایک ہتھیار ملے تھے۔ اس بار تو سنا ہے کہ ظواہری اینڈ کمپنی کو گاڑیاں بھی ملیں گی۔

افغانستان سے واپس آنے والے ایک امریکی فوجی نے مجھے بتایا کہ آج کے دن اگر پوری امریکی فوج وہاں سے واپس آتی ہے، تو جو بکتر بند گاڑیاں افغان فوج کے لیے چھوڑی گئیں ہیں ان میں ایک ماہ کے بعد تیل ڈلوانے کا بھی پیسہ نہیں رہے گا۔ تیل تو پھر سعودی عرب سے ہی آئے گا نا!

Image caption افغانستان کے اکثر علاقوں میں اب بھی طالبان سرگرم ہیں

اوباما جي کی مجبوری ویسے سب کو سمجھ میں آ رہی ہے۔ جب ویسٹ پوائنٹ ملٹری اکیڈمی سے اس برس پاس ہونے والے نئے فوجیوں سے انھوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ ان میں سے کسی کو اب عراق یا افغانستان نہیں جانا پڑے گا تو تالیوں کی گڑگڑاہٹ سننے کے لائق تھی۔ بہت دنوں کے بعد انھوں نے اپنے کسی کام کے لیے تعریف سنی ہے۔

کمانڈر ان چیف کی حیثیت سے انھیں ایک اور بات پتہ چلی ہے۔ کہہ رہے ہیں کہ جنگ ختم کرنا جنگ شروع کرنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ اتنے بڑے عہدے پر ہیں، یہ چھوٹی چھوٹی باتیں کبھی کبھی دماغ سےنکل جاتی ہیں۔

ان کی مشکل تو ایک اور بھی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی فوج کو گھر بٹھا کر تو كھلائیں گے نہیں۔ ویسے بھی اب دنیا کے دوسرے ممالک کو امریکی بلے کی، میرا مطلب فوج کی ضرورت ہے۔ شام اور کچھ افریقی ممالک کب سے انتظار کر رہے ہیں۔

تو اب دیکھیے، دوسرا دورہ کہاں کا لگتا ہے۔ گاڈ بلیز امریکہ۔

اسی بارے میں