فرانس: شدت پسند بھرتی کرنے کا شبہ، چار افراد گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مہدی نموچے کی گرفتاری جمعے کو ایمسٹرڈیم سے جنوبی فرانس آنے والی کوچ کے اچانک معائنہ کے بعد عمل میں آئی: وزیرِ داخلہ

فرانس میں حکام کے مطابق پیرس ریجن اور جنوبی فرانس سے چار افراد کو شام میں لڑائی کے لیے شدت پسند بھرتی کرنے کے شبہے میں چھاپے مار کر گرفتار کیا گیا ہے۔

یہ چھاپے اس کے ایک دن بعد مارے گئے جب ایک فرانسیسی کو پولیس نے برسلز کے یہودی میوزیم میں تین افراد کی ہلاکت کی تفتیش کے سلسلے میں حراست میں لیا تھا۔

29 سالہ مہدی نموچے کو جمعے کو مارسے سے گرفتار کیا گیا۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ مہدی نموچے نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے اور انھوں نے شام میں ایک سال سے زائد قیام کیا تھا۔

فرانس کے وزیرِ داخلہ برنارڈ کیزانووے نے پیر کو یورپ ریڈیو ون کو بتایا: ’یہاں ایسے افراد ہیں جو جہادیوں کو بھرتی کرتےہیں۔ ہم ہر جگہ مستعد ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں کوئی رعایت نہیں ہو گی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ پیر کو گرفتار ہونے والے افراد کا مہدی نموچے کی گرفتاری سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

فرانسیسی وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ مہدی نموچے کی گرفتاری جمعے کو ایمسٹرڈیم سے جنوبی فرانس آنے والی کوچ کے اچانک معائنے کے بعد عمل میں آئی۔

مہدی نموچے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے اسلامی شدت پسندوں کے ساتھ رابطے تھے اور وہ فرانس میں چوری کے ایک مقدمے میں پانچ برس کی سزا کاٹ چکے ہیں۔

مہدی نموچے دسمبر سنہ 2012 میں رہا ہوئے تھے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے وقت مہدی نموچے کے پاس ایک کلاشنکوف رائفل کے علاوہ ایک ہینڈ گن بھی تھی۔

استغاثہ کے مطابق مہدی نموچے کے پاس ایک شرٹ بھی تھی جس پر اسلامی رپبلک آف عراق کے علاوہ شام میں لڑنے والے ایک جہادی گروپ ’لیوانت‘ کا نام بھی کندہ تھا۔

اسی بارے میں