امریکی صدر کی روسی ’جارحیت‘ کی مذمت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر اوباما نے کہا ہے کہ روسی گیس کمپنی گیزپروم کے ساتھ مالی تنازعے میں امریکہ یوکرین کی مدد کرے گا

امریکی براک اوباما نے یوکرین میں روسی ’جارحیت‘ کی مذمت کی ہے۔

پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں کمیونزم کے اختتام کی 25ویں سالگرہ کے موقعے پر انھوں نے پولینڈ کو ہمسایہ ملک یوکرین کے لیے جمہوریت کی بہترین مثال قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم 20ویں صدی کے سیاہ انداز کو 21ویں صدی کی تشکیل دینے کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں۔‘

اس سے قبل امریکی صدر نے یوکرین کے نو منتخب صدر پیٹرو پوروشنکو سے ملاقات کی اور ان کے ملک میں امن بحال کرنے کی کوششوں کے عزم کو دہرایا۔

انھوں نے نو منتخب صدر کو ’دانش مندانہ انتخاب‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر عالمی برادری یوکرین کی حمایت کرے گی تو وہ ایک کامیاب جہموریت بن جائے گا۔

پیٹرو پوروشنکو کو مئی میں منتخب کیا گیا تھا اور سنیچر کے روز ان کی حلف برداری کی تقریب منعقد ہونی ہے۔

صدر اوباما نے کہا ہے کہ روسی گیس کمپنی گیزپروم کے ساتھ مالی تنازعے میں امریکہ یوکرین کی مدد کرے گا۔

یوکرین کی معیشت 2012 سے بحران کا شکار ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر نے یورپ میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی میں اضافے کے لیے ایک ارب ڈالر دینے کا اعلان کیا تھا۔

یہ اعلان انھوں نے منگل کو پولینڈ کے دورے کے دوران ہی کیا۔ اس موقع پر براک اوباما نے کہا کہ امریکی کے یورپی اتحادیوں کی سکیورٹی ’مقدس‘ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی صدر یورپ کے دورے میں نیٹو رہنماؤں کے ساتھ یوکرین میں جاری بحران پر بات چیت کریں گے

انھوں نے کہا کہ امریکہ اپنے یورپی اتحادیوں کی سکیورٹی کے لیے پر عزم ہے۔ امریکی صدر کے مطابق یوکرین کے بحران کے بعد انھوں نے وہاں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے نیٹو کے فضائی مشنز میں ہاتھ بٹانے کے لیے اور اپنی افواج کی مدد کے لیے پولینڈ میں اضافی زمینی افواج اور ایف 16 جہازوں کو روٹیٹ کرنا شروع کر دیا ہے۔‘

واضح رہے کہ امریکی صدر کی جانب سے کیے گئے اعلان کو کانگریس کی منظوری کی ضرورت ہو گی۔

امریکی صدر یورپ کے دورے میں نیٹو رہنماؤں کے ساتھ یوکرین میں جاری بحران پر بات چیت کریں گے۔

براک اوباما یورپ کے دورے کے دوران بیلجیئم اور فرانس کا بھی دورہ کریں گے۔

خیال رہے کہ رواں برس اپریل میں ماسکو کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کے بعد 150 امریکی فوجیوں کو فوجی مشقوں کے لیے پولینڈ بھیجا گیا تھا۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ تجویز ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یورپ کو سکیورٹی کے نئے چیلنجوں کا سامنا ہے۔

وارسا میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ایڈم ایسٹن کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ایشیائی اقوام کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں جس کی وجہ سے بعض مشرقی یورپی رہنما یہ محسوس کرتے ہیں کہ انھیں حالیہ برسوں میں نظر انداز کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں