سعودی عرب: میرس وائرس سے ہلاکتیں 282 ہوگئیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی عرب کے علاوہ تقریباً ایک درجن دیگر ممالک میں بھی مرس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے

سعودی عرب کے حکام کا کہنا ہے کہ سنہ 2012 سے اب تک میرس نامی کرونا وائرس کی زد میں آ کر ہلاک ہونے والوں کی تعداد 282 ہو گئی ہے۔

یہ تازہ اعداد و شمار ہسپتالوں کے ڈیٹا سے حاصل کیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ پیر کو نائب وزیر صحت کو معطل کردیا گیا ہے جن پر اس مرض پر قابو نہ پا سکنے کے سلسلے میں تنقید کی گئی تھی۔

سعودی عرب کے علاوہ تقریباً ایک درجن دیگر ممالک میں بھی میرس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ میرس (مڈل ایسٹرن ریسپائریٹری سنڈروم) وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 688 ہے۔ اس سے قبل حکام نے ان مریضوں کی تعداد 575 بتائی تھی۔

سعودی وزارت صحت کے ترجمان طارق مدنی کا کہنا ہے کہ اگرچہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن اب کم لوگ اس مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

ترجمان کے مطابق جو افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں ان میں سے 53 مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ ریاض، جدّہ اور دمام کے تین ہسپتالوں میں میرس کے علاج کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ میرس نظام تنفس کو متاثر کرتا ہے جس کی وجہ سے بخار، سرسام یا نمونیا ہو جاتا ہے اور گردے ناکارہ ہو جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اس کے انفیکشن کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صحت کی عالمی تنظیم ڈبلیو ایچ او نے سعودی عرب سے انفیکشن کی جانچ میں امداد کی پیش کش کی ہے۔

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، میرس مشرق وسطیٰ کے علاقے سے مخصوص ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی باشندوں نے سوشل میڈیا پر اس سلسلے میں حکومت کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مرس سے مرنے والوں کی تعداد میں آئے دن اضافے کے دوران گذشتہ پیر کو سعودی عرب کے وزیر صحت عبداللہ الربیعہ کو بغیر کسی وضاحت کے ان کے عہدے سے برخاست کر دیا گيا ہے۔

اسی بارے میں