غریب ترین ملک کے دو تہائی مرد تمباکو نوشی کے عادی کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اعداد و شمار کے مطابق مشرقی تیمور کی آبادی کا 33 فیصد حصہ روزانہ تمباکو نوشی کرتا ہے

مشرقی تیمور کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں تمباکو نوشی کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ یہاں کے دو تہائی مرد اس لت کا شکار ہیں۔ یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ جنوبی ایشیا کی یہ غریب ترین قوم آخر تمباکو کی اتنی عادی کیوں ہے؟

بھوٹان میں تمباکو نوشوں کی شامت

سپین: تمباکو نوشی کے خلاف قانون کا نفاذ

تمباکو مشرقی تیمور کی ہر چیز کا لازمی جزو معلوم ہوتا ہے۔ ایک بازار کی تنگ تاریک گلیوں سے گزرتے ہوئے فضا میں پھیلی خام تمباکو کی بُو محسوس کی جا سکتی ہے جو قرینے سے رکھے ٹماٹروں، آلوؤں، مٹروں اور دیگر سبزیوں کے ساتھ ساتھ بکنے کے لیے رکھا گیا ہے۔

سگریٹ کے زیادہ تر پیکٹوں کی قیمت ایک ڈالر سے کم ہے۔ ایک بڑی سی چھتری تلے مختلف برانڈز کے سگریٹ برائے فروخت ہیں۔

سبھی پر صحت سے متعلق انتباہ درج ہے لیکن یہ کئی تمباکو نوشوں کے لیے بے معنی ہے کیونکہ بالغ افراد کی نصف تعداد انھیں پڑھ نہیں سکتی۔

دارالحکومت دِلی میں ’مالبرو‘ سگریٹ کا علامتی نشان ایک گُھڑ سوار اب بھی کئی دکانوں پر دکھائی دے رہا ہے کہ حالانکہ کئی ممالک میں اس پر پابندی عائد ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ not found
Image caption دارالحکومت دِلی میں ’مالبرو‘ کا علامتی نشان ایک گھڑ سوار اب بھی کئی دکانوں پر دکھائی دے رہا ہے کہ حالانکہ متعدد ممالک میں اس پر پابندی عائد ہے

ایک امریکی طبی جریدے کے اعداد و شمار کے مطابق مشرقی تیمور کے 33 فیصد لوگ روزانہ تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ مردوں میں تمباکو نوشی کی 61 شرح فیصد ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مقامی نمائندے ڈاکٹر جارج لُونا کا کہنا ہے: ’نوجوان زیادہ تمباکو نوشی کرتے ہیں خصوصاً کم عمر لڑکے۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔‘

تیمور کی آبادی کا لگ بھگ نصف 15 برس کی عمر سے کم ہے۔ نوجوان لڑکوں میں مغربی طرز کے سگریٹوں کی مانگ زیادہ ہے جنھیں ڈبیا سے نکال کر ایک ایک کر کے بھی بیچا جاتا ہے۔

ڈاکٹر لُونا کے مطابق: ’ایک سگریٹ دس سینٹ کا ہوتا ہے، اگر آپ دو خریدتے ہیں تو وہ 20 سینٹ کے ہوئے، لیکن اگر آپ چار خریدتے ہیں تو وہ آپ کو صرف 25 سینٹ میں ملتے ہیں۔‘

چھوٹے کسان خود ساختہ سگریٹوں کے لیے تمباکو اگاتے کرتے ہیں اور یہ برانڈڈ سگریٹوں سے سستے ہوتے ہیں جو عموماً ہمسایہ ملک انڈونیشیا سے منگوائے جاتے ہیں۔

مشرقی تیمور کے سکولوں میں تمباکو نوشی کے سلسلے میں صحت سے متعلق کوئی تعلیم نہیں دی جاتی۔

مشرقی تیمور میں ایک امدادی ادارے کے ڈائریکٹر لک سیبوٹ کا کہنا ہے کہ ’میں نے خود دیکھا ہے کہ استاد پڑھانے کے دوران سگریٹ پیتے ہیں۔ وہ تختۂ سیاہ پر لکھتے ہوئے سگریٹ پی رہے ہوتے ہیں۔‘

ان کے بقول: ’یہاں ملک بھر میں سکولوں کے نظام میں سکول کی عمارت کے اندر سگریٹ پینے کے بارے میں کوئی ضابطہ ہی نہیں ہے۔‘

ایک سکول کے قریب میں نے ایک نوجوان کو ہاتھ میں سگریٹ لیے ہوئے دیکھا جو مالبرو کے لوگو والی ایک موٹر سائیکل پر بیٹھا ایک لڑکی سے باتیں کر رہا تھا۔

مشرقی تیمور میں آپ جہاں چاہیں تمباکو نوشی کر سکتے ہیں۔ بار، ریستوران، ہوٹلوں کے دالان اور کیفے ہمیشہ ہی دھوئیں سے بھرے ہوتے ہیں۔

صرف ایک استثنیٰ ایک نیا مقبول ہونے والا شاپنگ مال ہے۔ اس کا مالک تمباکو نوشی کا مخالف ہے اور اس جگہ تمباکو نوشی منع ہے۔

اور تو اور، مشرقی تیمور کے وزیرِ اعظم بھی بہت زیادہ تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ زنانا گُسماؤ گوریلا رہنماؤں میں سے ایک تھے جنھوں نے سنہ 1975 میں انڈونشیا کے قبضے کے خلاف اور سنہ 2002 میں ملک کی آزاد ریاست بننے سے قبل لڑائیوں میں حصہ لیا۔

انھیں گرفتار کر کے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی تاہم ملک کی آزادی کے بعد انھیں رہا کر دیا گیا۔

ان کے بقول سگریٹ نے انھیں اور ان کے ساتھیوں کو لڑائی جاری رکھنے میں مدد دی اور اس صورتحال میں گولی تمباکو نوشی سے زیادہ مہلک تھی۔

وہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ تمباکو نوشی کے عادی ہیں اور انھوں نے تین مرتبہ اسے ترک کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ایک مثالی شخصیت نہیں ہیں۔

جب میں نے ان سے سگریٹ کے اشتہاروں پر پابندی کی بات کی تو انھوں نے تمباکو کی صنعت کے موقف جیسی ہی بات کی: ’ہر چیز پر پابندی عائد کرنے کا قانون کارگر نہیں ہوگا۔ اس کے لیے تعلیم کی ضرورت جس میں وقت لگے گا، لیکن مجھے یقین ہے کہ جتنے زیادہ لوگ اس سے ہونے والی بیماریوں سے آگاہ ہوں گے وہ اتنا ہی اس کو ختم کرنے کے قابل ہوں گے۔‘

لیکن وزیرِ اعظم کی پُر جوش اہلیہ کرسٹی سارڈ گُسماؤ کینسر کے خلاف مہم میں شامل ہیں۔

وہ خود بھی چھاتی کے سرطان میں مبتلا ہیں اور وہ نوجوان تمباکو نوشوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بارے میں فکر مند ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’انڈونیشیا اور دیگر ممالک میں تمباکو کی کمپنیاں زیادہ تر کم عمر نوجوانوں کو ہدف بنا رہی ہیں جو تصاویر اور جاذبِ نظر چیزوں سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں۔‘

ان کے بقول بعض کی عمریں تو دس اور 11 برس ہیں۔ گو کہ تمباکو کمپنیاں ہمیشہ سے بچوں کو ہدف بنانے کے الزام کی تردید کرتی رہی ہیں۔

تاہم مشرقی تیمور کے ہسپتال تمباکو نوشی کے باعث ہونے والی بیماریوں کے شکار مریضوں سے نہیں بھرے کیونکہ نوجوان تمباکو نوشوں نے اتنے سگریٹ نہیں پیے کہ انھیں طبی مدد کی ضرورت پڑے۔

اس وقت یہاں سب سے مہلک مرض تپ دق (ٹی بی) ہے۔ لیکن کینیڈا کے ایک ڈاکٹر ڈان مرفی جو 20 برس سے ایک مقامی ہسپتال چلاتے ہیں دلِی شہر کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’دنیا بھر میں تمباکو نوشوں کا 80 فیصد ترقی پذیر ممالک میں رہتا ہے اور یہاں نوجوان سمجھتے ہیں کہ انھیں مغربی اور جدید بننے کے لیے سگریٹ پینا چاہییں۔‘

ڈاکٹر مرفی کا کہنا ہے کہ ’ہمیں ان کی سوچ کو یکسر بدلنا ہے اور آنے والے کل کے لیے فکر مند ہونا ہے۔ مجھے خوف ہے کہ ہم ایک سخت سبق سیکھنے والے ہیں اور یہ صورتحال تمام تر غریب ممالک میں ہے۔‘

وہ نہیں سمجھتے کہ حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ ہے ۔ ان کے بقول ’تمباکو لابی بہت طاقت ور ہے۔‘

ڈاکٹر مرفی کہتے ہیں: ’وہ یہ دکھا سکتے ہیں کہ تمباکو نوشی تسکین فراہم کرتی ہے، یہ ایک ایسی چیز ہے جو آپ کی زندگی میں اضافہ کرتی ہے اور آپ کی زندگی کو معنی دیتی ہے۔ آپ کا سامنا ایک پروپگینڈا مشین سے ہے۔ اور یہ جنگ بہت کٹھن ہے۔‘

اسی بارے میں