برازیل میں عالمی کپ سے پہلے مظاہرے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مذاکرات کا تازہ دور ناکام ہونے کے بعد ہرتال جاری رہے گا

برازیل میں پولیس نے ساؤ پاؤلو شہر میں میٹرو کے کارکنوں کی ہڑتال کے دوسرے دن مظاہرین کو منتشر کرنے کےلیے آنسوگیس استعمال کی ہے۔

برازیل کےاس بڑے شہر میں جہاں آئندہ جمعرات کو عالمی فٹ بال کپ کا ابتدائی میچ ہوگا، تقربیاً آدھے میٹرو سٹیشن بند رہے اورگلیوں میں ٹریفک جام رہی۔

مذاکرات کا تازہ دور ناکام ہونے کے بعد ہرتال جاری رہے گا۔

جمعے کو بھی ساؤ پاؤلو کے ایک تہائی میٹرو سٹیشن بند تھے اور شہر میں صبح کے رش کے اوقات میں 200 کلو میٹر سے زیادہ ٹریفک جام تھا۔

ساؤ پاؤلو کے مرکز میں پولیس نے آنا روز سٹیشن کے باہر مظاہرین کے خلاف آنسو گیس استعمال کی اور لاٹھی چارج کیا۔

عسکری پولیس کے ایک ترجمان نے کہا کہ حکام نے اس وقت مداخلت کی جب مظاہرین اور میٹرو سٹیشن میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے لوگوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئیں۔

برازیل نے جمعے کو ساؤ پاؤلو کے ایک سٹیڈیم میں جو عالمی کپ میں استعمال نہیں ہوگا، سربیا کو ایک دوستانہ میچ میں ایک صفر سے شکست دی تھی۔

عالمی کپ 12 جون سے ساؤ پاؤلو میں برازیل اور کروشیا کے درمیان میچ سے شروع ہوگا۔

جمعرات کو فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کے صدر نے کہا تھا کہ وہ برازیل میں اس عالمی فٹ بال کپ کی کامیابی کے لیے پر اعتماد ہیں۔

فیفا کے صدر سیپ بلیٹر نے برازیل کے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ اس عالمی کپ کو کامیاب بنانے کے لیے جو کچھ بھی کر سکتے ہیں کریں۔

انھوں نے یہ بات جمعرات کو ساؤ پاؤلو شہر میں میٹرو کے کارکنوں کی ہڑتال کی وجہ سے ہونے والی ٹریفک جام سے نکلنے کے بعد کہی تھی۔

فیفا کے حکام اس ٹریفک جام میں کئی گھنٹوں تک پھنسے رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ VIPCOMM
Image caption برازیل نے جمعے کو دوستانہ میچ میں سائبیریا کو دوستانہ میچ میں ایک صفر سے شکست دی

پولیس اور دیگر سرکاری اداروں کے ملازمین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہیں ہوئے تو وہ بھی ہڑتال کریں گے۔

حالیہ احتجاج برازیل میں ہونے والے عالمی فٹ بال کپ کے لیے ایک نیا دھچکا ہے جس پر ٹورنامنٹ کے عالمی منتظمین نے تنقید بھی کی ہے۔

لیکن فیفا کے صدر نے عالمی کپ کے انعقاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم پراعتماد ہیں کہ یہ ایک جشن ہوگا۔‘

اس سے پہلے برازیل میں فٹ بال کے عالمی کپ پر اٹھنے والے اخراجات کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے۔

گذشتہ برس لاکھوں افراد نے عالمی کپ پر اٹھنے والے اخراجات اور بدعنوانی کے خلاف اور عوامی سہولیات میں بہتری کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک بھر میں مظاہرے کیے تھے۔

تب سے اب تک برازیل میں متعدد مرتبہ مظاہرے ہو چکے ہیں جن میں سے کئی تشدد کے بعد ختم ہوئے۔

اسی بارے میں