چین اپنے دفاعی اخراجات کم بتاتا ہے: امریکہ

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES
Image caption امریکہ کا الزام رہا ہے کہ چین اپنے دفاعی بجٹ کے معاملے میں شفافیت کا مظاہرہ نہیں کرتا ہے

امریکی وزارت دفاع کی ایک رپورٹ کے مطابق چین نے سنہ 2014 کےدوران دفاع پر کیے جانے والے اخراجات کو 20 فی صد کم کر کے پیش کیا ہے۔

چین نے رواں سال کے لیے اپنے دفاعی بجٹ کا تخمینہ 120 ارب ڈالر بتایا ہے لیکن امریکی رپورٹ کا کہنا ہے کہ حقیقی رقم 145 ارب ڈالر کے قریب ہے۔

امریکہ نے چین سے اپنے منصوبوں کے بارے میں زیادہ شفافیت مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ چین کے جنوب میں واقعہ سمندر میں موجود متنازع جزائر پر علاقائی قوتوں سے چین کے تعلقات بہت کشیدہ ہیں۔

دوسری جانب چین ہمیشہ ہی امریکہ پر منافقت کا الزام لگاتا رہا ہے کیونکہ امریکہ کے دفاعی بجٹ کے سامنے چین کا دفاعی بجٹ بہت کم نظر آتا ہے۔

امریکی کا عسکری بجٹ سنہ 2013 میں 600 ارب ڈالر تھا۔

چین کے دفاع پر امریکہ سالانہ رپورٹ شائع کرتا ہے جو کہ چینی اخراجات کا تخمینہ ہوتا ہے۔ امریکہ نے گذشتہ سال چین کے اخراجات کا تخمینہ 135 ارب ڈالر سے 215 ارب ڈالر کے درمیان بتایا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption دنیا کے 15 ممالک جن کے دفاعی بجٹ سب سے زیادہ ہیں ان میں امریکہ سرفہرست ہے

تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اب انھیں چین کے طرز عمل کے بارے میں زیادہ بہتر معلومات اور اندازہ ہے۔

پنٹاگون کا کہنا ہے کہ چین اپنے ڈرونز، جنگی جہازوں، طیاروں، میزائل اور سائبر ہتھیاروں کے اسلحہ خانہ کو بہتر بنانے اور اپ گریڈ کرنے پر پیسے خرچ کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین کی توجہ ابھی تک تائیوان آبنائے میں ممکنہ تصادم پر مرکوز ہے۔ اس کے علاوہ وہ جنوبی اور مشرقی چائنا سمندروں پر بھی توجہ مرکوز کر رہا ہے جہاں بعض خطوں پر تنازع جاری ہے۔

چین ان سمندروں میں پھیلے تمام جزائر اور ابھری ہوئی چٹانوں کا دعویٰ کرتا ہے جبکہ ان پر فلپائن، ویتنام اور جاپان جیسے ممالک بھی اپنا دعویٰ پیش کرتے ہیں۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ چین کی عدم شفاف رویے کی وجہ سے علاقے میں تشویش پائی جاتی ہے۔

چین نے ابھی اس رپورٹ پر رد عمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔

اسی بارے میں