جوہری پروگرام پر ایران امریکہ بات چیت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایران کے جوہری پروگرام پر مئی میں ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ رہے تھے

امریکہ اور ایران کے سینیئر حکام ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر پیر سے جنیوا میں دو روزہ بات چیت کریں گے۔

یہ بات جیت ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر ہونے والے مذاکرات سے پہلے منعقد کی جا رہی ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی حکام اس قسم کی بات چیت روم میں روس کے ساتھ بھی کریں گے۔

یاد رہے کہ اس معاملے پر مئی میں ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ رہے تھے۔

چھ عالمی طاقتوں پی ون پلس فائیو (جس میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی شامل ہیں) ممالک کا کہنا ہے کہ ایران مستقل طور پر اپنی حساس جوہری سرگرمیاں ختم کر دے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ جوہری ہتھیار نہ بنا سکے۔

لیکن ایران شدو مد کے ساتھ کہتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اسے جاری رکھنا چاہتا ہے اور اس کے خلاف جو پابندیاں عائد ہیں انھیں ہٹایا جائے کیونکہ ان کی وجہ سے اس کی معیشت مفلوج ہو رہی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے سنیچر کو جاری ہونے والے بیان کے حوالے سے بتایا کہ ایران ویانا میں مذاکرات سے پہلے اس سلسلے میں چھ عالمی طاقتوں پی فائیو پلس ون کے گروپ کے اراکین کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کے انعقاد پر بھی کام کر رہا ہے۔

بی بی سی فارسی کے قصریٰ ناجی کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان دو طرفہ بات چیت دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیش رفت ہے جو عرصے سے کشیدہ تھے۔

گذشتہ مہینے ایران کے وزیرِ خارجہ جاوید ظریف نے اس بات پر زور دے کر کہا کہ جوہری پروگرام کے حوالے چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ معاہدہ اب بھی ہو سکتا ہے۔

گذشہ سال 20 جولائی کو ہونے والے عارضی سمجھوتے کے تحت ایران نے کئی معاشی پابندیاں ختم کرنے کے بدلے یورینیئم کی افزودگی کم کر دی تھی لیکن اس معاہدے کی مدت ختم ہونے والی ہے۔

اسی بارے میں