امریکی فوجی برگڈال کے والدین کو دھمکیوں کی تفتیش

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption برگڈال کی ابتدائی تلاش میں چھ دیگر امریکی فوجیوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑے تھے: ناقدین

امریکی حکام پانچ سال کی قید کے بعدگذشتہ ہفتے طالبان کی جانب سے رہا کیے جانے والے امریکی فوجی سارجنٹ بو برگڈال کے والدین کو ملنے والے دھمکی آمیز پیغامات کی تفتیش کر رہے ہیں۔

امریکی پولیس نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ وہ اس سلسلے میں چار ای میلز کے بارے میں تفتیش کر رہے ہیں۔

دوسری جانب اطلاعات کے مطابق برگڈال نے کہا ہے کہ اغوا کار انھیں کئی کئی ہفتے مکمل تاریک مقامات پر قید کر دیتے تھے۔

امریکہ میں سارجنٹ برگڈال کے حوالے سے لوگوں کی رائے منقسم ہے کہ آیا انھیں ہیرو سمجھا جائے یا ایک ایسا سپاہی جس نے اپنی چوکی سے بھاگ کر اپنے ہی ساتھیوں کی جان کو خطرے میں ڈالا تھا۔ اسی وجہ سے ان کے آبائی قصبے میں جمعرات کو جو استقبالیہ ہونا تھا اسے بھی منسوخ کر دیا گیا تھا۔

مقامی پولیس کے سربراہ جیف گنٹر نے روئٹرز کو بتایا کہ برگڈال کے والد بوب برگڈال کو جان سے مار دینے کی پہلی دھمکی ان کے گھر پر موصول ہوئی۔ برگڈال کے والدین ریاست ایڈاہو کے شہر ہیلی کے قریب رہتے ہیں۔

پولیس سربراہ کے مطابق مسٹر برگڈال کو ملنے والی دھمکی آمیز ای میلوں کی تفتیش اب امریکہ کا مرکزی تفتیشی ادارہ ایف بی آئی کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہمیں انھیں چھڑانے کا ایک موقع نظر آیا اور ہم نے اس موقع سے فائدہ اٹھا لیا: صدر اوباما

سرکاری حکام بوب برگڈال اور ان کی اہلیہ کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔

برگڈال کی گرتی ہوئی صحت

ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہوئی ہے کہ آخر وہ کیا حالات تھے جن میں سارجنٹ برگڈال سنہ 2009 میں طالبان کے ہتھے چڑھ گئے تھے۔

برگڈال کے سابق فوجی ساتھیوں میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ افغانستان کے صوبہ پکتیا میں طالبان نے انھیں اس وقت اپنی قید میں لیا جب وہ اپنی یونٹ سے بھاگ گئے تھے۔

گوانتانامو سے پانچ طالبان قیدیوں کے تبادلے میں برگڈال کی رہائی پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جب برگڈال اپنی یونٹ سے لاپتہ ہوئے تو ان کی ابتدائی تلاش میں چھ دیگر امریکی فوجیوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ گوانتانامو سے قیدیوں کے تبادلے سے کم از تیس دن پہلے امریکی کانگریس کو اس بارے میں بتایا جانا چاہیے۔

دوسری جانب صدر اوباما کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کا فیصلہ درست تھا۔ گذشتہ ہفتے بلیجیم میں جی سیون ممالک کے اجلاس کے موقع پر صدر اوباما نے کہا تھا کہ سارجنٹ برگڈال کی گرتی ہوئی صحت ’بہت فکرمندی‘ کی بات تھی اور ’ہمیں انھیں چھڑانے کا ایک موقع نظر آیا اور ہم نے اس سے فائدہ اٹھا لیا۔‘

روزنامہ نیویارک ٹائمز کے مطابق اپنی رہائی کے بعد سارجنٹ برگڈال نے اخبار کو بتایا ہے کہ قید کے دوران طالبان نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا۔

اخبار کے مطابق سارجنٹ برگڈال نے بتایا کہ قید سے فرار ہونے کی کوشش کے جرم میں طالبان انھیں کئی کئی ہفتے لوہے کے پنجرے میں بند کر کے مکمل تاریکی میں قید کر دیتے تھے۔

اخبار نے جرمنی میں برگڈال کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگرچہ وہ جسمانی طور سفر کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن ان کی ذہنی حالت ایسی نہیں ہے کہ وہ اپنے گھر والوں سے ملنے کے جذباتی لمحات کا سامنا کر سکیں۔

اسی بارے میں