یوکرین: پوروشنکو کی حلف برداری اور امن منصوبہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یوکرین کے نئے صدر نے کرائمیا کو اپنے ملک کا حصہ قرار دیا

یوکرین کے نومنتخب صدر پیٹرو پوروشنکو نے سنیچر کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے اور ملک کے مشرقی علاقوں میں امن بحال کرنے کا منصوبہ بیان کیا ہے۔

48 سالہ پوروشنکو نے 25 مئی کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ انھوں نے مشرقی علاقے کی عوام کو سیاسی رعایات کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ نہ تو جنگ چاہتے ہیں اور نہ انتقام۔

تاہم انھوں نے کہا کہ انھوں نے روسی صدر کو یہ باور کرایا ہے کہ کرائمیا ہمیشہ یوکرین کا حصہ رہے گا۔ واضح رہے کہ گذشتہ دنوں روس نے کرائمیا کے علاقے کو اپنے ملک میں شامل کر لیا تھا۔

بعض علیحدگی پسندوں نے ان کے صدارتی خطاب کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ وہ کبھی بھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔

روس کے سفیر نے کہا کہ یوکرینی صدر کے خطاب میں امید نظر آتی ہے۔

حلف برداری کی تقریب میں شریک روسی سفیر میکائیل زورابوو نے کہا کہ اگر جنگجو جنگ بندی کا اعلان کرتے ہیں تو یوکرین کو مشرق میں اپنے فوجی آپریشن ختم کردینے چاہیےاور انسانی بنیادوں پر امداد کے لیے وہاں جانے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

یوکرین کا کہنا ہے کہ ماسکو مشرقی ڈونباس کے علاقے میں مسلح جنگجوؤں کی حمایت کر رہا ہے۔ دوسری جانب روس ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملک کے مشرقی علاقے میں علیحدگی پسند سرگرم ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھیں روس کی پشت پناہی حصل ہے جبکہ روس اس کی تردید کرتا ہے

دریں اثنا یوکرین کے بعض مشرقی علاقوں سے سنیچر کو بھی تصادم کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ باغیوں کے گڑھ سلوویانسک پر فوج کی گولی باری ہوئی ہے اور ماریوپول کے جنوب میں بھی گولیاں چلی ہیں۔

نو منتخب صدر پوروشنکو نے متعدد غیر ملکی مہمانوں کی موجودگی میں کیئف کی پارلیمان میں حلف لیا۔ ان مہمانوں میں امریکہ کے نائب صدر جو بائڈن بھی شامل تھے۔

صدر پوروشنکو روشن چاکلیٹ گروپس کے مالک ہیں۔ انھوں نے بحران کے خاتمے کے لیے ایک پروگرام پیش کیا جس میں ملک کے مشرق میں علاقائی سطح پر جلد انتخابات کرانا شامل ہے۔

اس کے علاوہ انھوں نے عدم ارتکاذ کی بات کرتے ہوئے ریاستی یا صوبائی انتظامیہ کو زیادہ سے زیادہ اقتدار کی بات کہی۔

انھوں نے کہا: ’میں جنگ نہیں چاہتا۔ میں انتقام بھی نہیں چاہتا حالانکہ یوکرین کی عوام نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔‘

کیئف میں ہمارے نمائندے ڈیوڈ سٹرن کا کہنا ہے پوروشنکو کی تقریر پُرجوش تھی اور ان کے حامیوں کے لیے سارے صحیح تار کو چھو رہی تھی۔ ’مقامی مبصرین اور بلاگ لکھنے والوں کا ردعمل بہت زیادہ مثبت تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’بلا شبہ انقلاب حامی یوکرینی ان کے خطاب سے خوشی محسوس کر رہے ہوں گے کیونکہ وہ ملک کو متحد رکھنا چاہتے ہیں اور یورپی یونین کی رکنیت کے حامی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پوروشنکو نے اپنے افتتاحی خطاب میں کیئف کے یورپی یونین میں شامل ہونے کے موقف کا اعادہ کیا

پوروشنکو نے مشرقی علیحدگی پسندوں سے ہتھیار ڈالنے کے لیے کہا اور کہا کہ وہ ان تمام لوگوں کے خلاف لگائے جانے والے مجرمانہ چارجز کو معاف کردیں جن کے ہاتھ خون سے نہیں رنگے ہوں۔

اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ: ’غنڈو اور قاتلوں سے بات کرنا ہمارا شیوہ نہیں۔‘

ہمارے نمائندے نے بتایا کہ تقریر کا کچھ حصہ روسی زبان میں تھا جو کہ جنگ سے متاثرہ ڈونباس کے لیے تھا۔ اس میں روسی زبان کے لیے چھوٹ کی بات کہی گئی اور روسی جنگجوؤں کو اپنے وطن لوٹنے کے لیے راہداری دینے کی بات کہی گئی۔

اس کے علاوہ ہمارے نامہ نگار کا کہنا تھا کہ کرائمیا کے متعلق ان کے بیان اور یورپی یونین میں شمولیت کے ان کے اعادے پر لوگوں نے پرجوش انداز میں کھڑے ہوکر ان کا استقبال کیا۔

اسی بارے میں