مصر: عدالت نے حبیب العدلی کو بری کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مصر کے سابق وزیر کو سنہ 2011 میں 12 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی

مصر کی ایک عدالت نے ملک کے سابق وزیرِ داخلہ حبیب العدلی کو بدعنوانی اور غیر قانونی طور پر ملک سے باہر پیسہ لانے یا لے جانے کے جرم میں بری کر دیا ہے۔

حبیب العدلی مصر کی سکیورٹی سروسز کے سربراہ تھے اور سابق صدر حسنی مبارک کی حکومت کے ایک اہم رکن مانے جاتے تھے۔

مصر کے سابق وزیر کو سنہ 2011 میں 12 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

حبیب العدلی نے دس برس تک سابق صدر حسنی مبارک کی سکیورٹی سروسز کو چلایا۔

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کو سنہ 2011 میں زبردست عوامی احتجاج کے بعد اقتدار چھوڑنا پڑا تھا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حبیب العدلی ابھی جیل میں ہی رہیں گے کیونکہ انھیں ایک مقدمے میں سزا ہو چکی ہے جبکہ دیگر مقدمات میں انھیں الزامات کا سامنا ہے۔

حبیب العدلی کو سنہ 2012 میں حسنی مبارک کے ہمراہ مظاہرین کو ہلاک کرنے کے الزام میں عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔ تاہم تکنیکی وجوہات کی وجہ سے وہ سزا پلٹ دی گئی تھی۔

مصر کی ایک عدالت نے رواں برس مئی میں سابق صدر حسنی مبارک کو بدعنوانی کے ایک مقدمے میں قصور وار پائے جانے پر تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔

عدالت نے اُن کے دو بیٹوں اعلیٰ اور کمال کو بھی قصور وار پاتے ہوئے چار چار سال جیل کی سزا سنائی تھی۔

اسی بارے میں