ایم ایچ 370: لواحقین کو رقوم کی ادائیگی شروع

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بہت سے لواحقین یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں کہ ان کے رشتے دار اس واقعے میں ہلاک ہو گئے ہیں

ملائیشیا کے لاپتہ مسافر طیارے ایم ایچ 370 کے مسافروں کے لواحقین کو ہرجانے کے سلسلے میں معاوضے کی رقوم کی ادائیگی شروع کر دی گئی ہے۔ یہ معاوضہ 50 ہزار امریکی ڈالر ہے۔

اب تک چھ ملائیشیائی اور ایک چینی خاندان کو رقوم ادا کی گئی ہیں اور بیمہ پالیسی کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ وہ 40 مزید خاندانوں کے دعووں پر غور کر رہے ہیں۔

ایم ایچ 370 کے مسافروں کے لواحقین پونے دو لاکھ امریکی ڈالروں تک کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔

کوالالمپور سے بیجنگ جانے والا یہ مسافر بردار طیارہ آٹھ مارچ کو لاپتہ ہو گیا تھا اور اس پر 239 افراد سوار تھے، جن میں سے بیشتر چینی باشندے تھے۔

سیٹلائٹ معلومات کی بنیاد پر حکام کا خیال ہے کہ مسافر طیارہ اپنے متعین راستے سے بھٹک کر بہت دور بحرِ ہند کے جنوبی حصّے میں سمندر میں گر گیا تھا۔

اس طیارے کی تلاش میں کئی ممالک کی متعدد ماہ سے جاری مشترکہ کوششیں بھی رنگ نہیں لا سکیں، البتہ ملائیشیا کی حکومت نے باضابطہ طور پر اس طیارے کی تلاش ختم نہیں کی۔

ملائیشیا کے نائب وزیر خارجہ حمزہ زین الدین کا کہنا تھا کہ لواحقین کو مکمل رقم اسی وقت دی جا سکے گی جب اس افسوس ناک واقعے کے انجام کے بارے میں سرکاری طور پر اعلان کر دیا جائے۔

ملائیشیا ایئرلائن نے مختلف کمپنیوں کے ایک گروپ سے بیمہ پالیسی لے رکھی ہے جن میں جرمنی کی آلی آنز شامل ہے۔

بہت سے لواحقین یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں کہ ان کے رشتے دار اس واقعے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

گمشدہ طیارے کے مسافروں کے لواحقین نے رقم اکٹھی کرنے کی مہم کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ پرواز ایم ایچ 370 آخر گئی کہاں۔

بدقسمت طیارے کے مسافروں کے گھر والوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وہ ’اس شخص کی حوصلہ افزائی کے لیے کم از کم 50 لاکھ ڈالر اکٹھے کرنا چاہتے ہیں جسے اندر کی خبر ہے اور وہ سامنے آ کر ہمیں بتائے کہ طیارہ کیونکر غائب ہوا۔‘

خیال رہے کہ مختلف ممالک کے طیارے اور بحری جہاز سمندر میں ایم ایچ 370 کے کسی بھی قسم کے شواہد تلاش کرنے میں مصروف ہیں تاہم اب تک اس میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔

اسی بارے میں