اوباما عراق کے’تمام امکانات‘ پر غور کریں گے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عراق کو شدت پسندوں کےگروہوں کا زور توڑنے کے لیے اضافی مدد کی ضرورت ہے: اوباما

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ عراق میں شدت پسندوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے کارروائی کرنے کا فیصلہ کرنے میں انھیں چند دن لگیں گے تاہم امریکہ عراق میں اپنی افواج نہیں بھیجے گا۔

امریکی صدر نے عراقی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ فرقہ وارانہ اختلافات کو ختم کرنے کے لیے سنجیدہ اور مخلصانہ کوششیں کریں۔

براک اوباما نے میڈیا کو بتایا کہ دولتِ اسلامیہ فی عراق والشام (آئی ایس آئی ایس) نہ صرف عراق اور اس کے عوام کے خطرہ ہے بلکہ وہ امریکی مفادات کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ عراق کو شدت پسندوں کےگروہوں کا زور توڑنے کے لیے اضافی مدد کی ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ آئی ایس آئی ایس کے شدت پسندوں نے حالیہ دنوں میں عراق کے شہروں موصل اور تکریت پر قبضہ کر لیا ہے اور اب وہ دارالحکومت بغداد کی جانب گامزن ہیں۔

اس سے پہلے عراق کے سب سے سینیئر شیعہ رہنما آیت اللہ العظمیٰ علی سیستانی کے ترجمان نے کہا تھا کہ سنی شدت پسندوں کی پیش قدمی کے بعد شہری ہتھیار اٹھائیں اور سکیورٹی فورسز کا ساتھ دیں۔

شیعہ رہنما کے نمائندے کی جانب سے یہ پیغام کربلا میں نمازِ جمعہ کے دوران دیا گیا۔

پیغام میں کہا گیا کہ ’ایسے شہری جو ہتھیار حاصل کر سکتے ہیں اور دہشت گردوں سے لڑائی اور اپنے ملک، لوگوں اور مقدس مقامات کا دفاع کر سکتے ہیں، وہ رضاکارانہ طور پر سکیورٹی فورسز کا اس مقدس فریضے میں ساتھ دیں۔‘

بغداد میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار رچرڈ گلپن کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ ہزاروں افراد نے پہلے ہی شعیہ ملیشیا میں شامل ہو چکے ہیں اور وہ بغداد کے تحفظ میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس سے قبل ایران کے صدر حسن روحانی نے عراقی وزیرِاعظم نوری المالکی سے جمعرات کو رابطہ کر کے ان سے وعدہ کیا کہ ایران ’دہشت گردوں کے حامیوں کو عراق کی سکیورٹی اور سلامتی کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آئی ایس آئی ایس کے شدت پسندوں نے حالیہ دنوں میں عراق کے شہروں موصل اور تکریت پر قبضہ کر لیا ہے

وال سٹریٹ جنرل اور سی این سی کے نامعلوم ذرائع کے مطابق ایران نے عراق کی مدد کرنے کے لیے اپنے ریولوشن گارڈ کے ایلیٹ یونٹس کو پہلے ہی عراق بھیج دیا ہے تاہم دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران حکام نے اس بات کی تردید کی ہے۔

آئی ایس آئی ایس کے عسکریت پسندوں کا ارادہ ہے کہ وہ جنوبی علاقوں کی جانب مزید پیش قدمی کریں گے جہاں دارالحکومت بغداد اور شیعہ اکثریتی علاقے ہیں۔

عراق میں شدت پسندوں نے دو نئے قصبوں پر قبضے کے ساتھ اپنے کنٹرول کا دائرہ وسیع تر کر لیا ہے اور اب ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ دارالحکومت بغداد کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

سنی شدت پسندوں نے دیالہ صوبے میں سعدیہ اور جلولا کے قصبوں پر قبضہ کیا ہے اور مضافاتی علاقوں میں سکیورٹی اہلکار اپنی چوکیاں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

اس سے پہلے امریکی صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ ان کی حکومت عراق میں فوجی ایکشن سمیت ’تمام آپشنز‘ پر غور کر رہی ہے۔

امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں آسٹریلیا کے وزیرِاعظم ٹونی ایبٹ کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا تھا کہ عراق میں مختصر مدت کے لیے فوری طور پر فوجی کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں