مصر میں الجزیرہ کے صحافی کی رہائی کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ xxx
Image caption عبداللہ الشامی ان 13 افراد میں شامل ہیں جنھیں حکام نے طبی بنیادوں پر رہا کرنے کا فیصلہ کیا

مصر میں حکام نے معروف ٹی وی نیٹ ورک الجزیرہ کے صحافی عبداللہ الشامی کو طبی بنیادوں پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

عبداللہ الشامی بغیر کسی الزامات کے قید میں رکھے جانے کے خلاف گذشتہ پانچ ماہ سے بھوک ہڑتال پر تھے۔

انھیں گذشتہ اگست میں پولیس کی طرف سے سابق صدر محمد مرسی کے حامیوں کو منشتر کیا کرنے کے موقع پر گرفتار کیا تھا۔

اس سے پہلے قاہرہ میں ایک عدالت نے کہا کہ وہ الجزیرہ ٹی وی کے تین دیگر صحافیوں کے مقدمے میں آئندہ ہفتے فیصلہ سنائیں گے جنھیں گذشتہ دسمبر میں گرفتار کیا گیا تھا۔

بی بی سی کے سابق نامہ نگار پیٹر گریسٹے اور ان کے ساتھی محمد فہیمی اور باہر محمد پر غلط خبریں نشر کرنے اور محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کی حمایت کرنے کا الزام ہے۔ حکومت نے اخوان المسلمین کو ایک ’دہشت گرد‘ تنظیم قرار دیا ہے۔

استغاثہ کے وکلا نے تمام ملزمان کے لیے 15 سال قید کے سزا کی استدعا کی ہے۔

عبداللہ الشامی ان 13 افراد میں شامل ہیں جنھیں حکام نے طبی بنیادوں پر رہا کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان میں باقی 12 اخوان المسلمین کے حامی ہیں ۔

عبداللہ الشامی کے خاندان نے مئی میں خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ الشامی کا بھوک ہڑتال شروع کرنے کے بعد سے 40 کلو وزن کم ہوا ہے۔

ان کے وکیل شابان سعید نے پیر کو کہا کہ ’پراسیکویٹر جنرل نے عبداللہ کو رہا کرنے کی ہماری درخواست قبول کر لی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جب ہم رہائی پر عمل درامد کرانے کے لیے کارروایی پوری کر لیں گے تو وہ توریٰ جیل سے منگل کی صبح رہا کر دیے جائیں گے۔‘

عبداللہ الجزیرہ عرب کے لیے کام کرتے ہیں۔

قطر میں قائم الجزیرہ نیٹ ورک پر مصر میں کام کرنے پر پابندی ہے۔ مصری حکام الجزیرہ پر محمد مرسی اور اخوان المسلمین کے حق میں خبریں نشر کرتے ہیں جس کی الجزیرہ مسلسل تردید کرتی ہے۔

اسی بارے میں