عراق: تل عفر پر بھی قبضہ، امریکہ ایران بات چیت پر غور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش نامی جنگی جہاز خلیج میں تعینات ہونے کے لیے تیار ہے جس کے ساتھ مزید دو جنگی جہاز ہیں

شہریوں کا کہنا ہے کہ سُنی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ عراق و شام (آئی ایس آئی ایس یا داعش) کے جنگجوؤں نے شمالی عراقی شہر تل عفر پر قبصہ کر لیا ہے۔

ادھر ایک امریکی اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکہ عراق میں سلامتی کے معاملے پر ایران سے براہ راست بات چیت کے بارے میں غور کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ یہ بات چیت عراق کے سلسلے میں امریکی صدر براک اوباما کے مختلف آپشنز پر غور کے دوران سامنے آئی۔

دریں اثنا امریکہ نے داعش کی پوسٹ کردہ تصاویر کو ’خوفناک‘ قرار دیا جن میں بظاہر نظر آ رہا ہے کہ جنگجو عراقی فوجیوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔

ان تصاویر میں نقاب پوش جنگجوؤں کو کئی عراقی فوجیوں کو لے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس کے بعد انھیں کھائیوں میں لیٹا ہوا دکھایا گیا ہے۔ ان میں ہلاک کرنے سے قبل اور بعد کی تصاویر شامل ہیں۔

عراقی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل قاسم الموسوی نے ان تصاویر کے اصلی ہونے کی تصدیق کی ہے، تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

شمالی عراق میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جِم موئر کا کہنا ہے کہ اگر یہ تصاویر اصلی ہیں تو یہ سنہ 2003 میں عراق پر امریکی قبضے کے بعد سب سے سفاکانہ قتلِ عام ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption داعش کے جنگجوؤں نے جو تصاویر انٹرنیٹ پر ڈالی ہیں ان کی عراقی حکام نے تصدیق کی ہے

یہ واقعات عراقی حکومت کے سنی جنگجوؤں کو پسپا کرنے کے دعووں کے بعد پیش آئے ہیں۔

گذشتہ ہفتے جنگجوؤں نے موصل اور تکریت سمیت کئی دوسرے شہروں پر قبضہ کر لیا تھا مگر عراقی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے کئی شہروں کو جنگجوؤں کے قبضے سے آزاد کروا لیا ہے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کی رجنی ویدیاناتھن کا کہنا ہے کہ ہر چند امریکہ اور ایران ایک دوسرے کے پرانے مخالف رہے ہیں تاہم دونوں کو داعش کے بڑھتے ہوئے خطرے پر لگام لگانے میں دلچسپی ہے اور دونوں ہی عراقی حکومت کو فوجی امداد فراہم کرنے کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔

امریکہ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایران سے براہ راست گفتگو پر غور کر رہا ہے جو اس ہفتے بھی ممکن ہے۔

بہر حال دونوں ممالک کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر ویانا میں تازہ دور کی بات چیت ہونے والی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ان تصاویر میں قتل عام سے پہلے اور اس کے بعد کے مناظر دکھائے گئے ہیں

ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ عراق میں کوئی کارروائی کرتا ہے تو ایران اس میں تعاون کے بارے میں غور کرے گا۔

واضح رہے کہ امریکی جنگی جہاز یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش جنگی بیڑہ خلیج میں تعینات ہونے کے لیے تیار ہے جس کے ساتھ مزید دو جنگی جہاز ہیں۔ تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ کوئی بھی امریکی فوجی عراق کی سرزمین پر نہیں اترے گا۔

امریکہ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ بغداد میں اپنے سفارت خانے کی سکیورٹی میں اضافہ کر رہا ہے اور سفارت خانے کے بعض اہلکاروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے جا رہا ہے۔

دریں اثنا یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے 130 جوان تربیت اور مشورہ فراہم کرنے کے لیے عراق میں موجود ہیں۔

اسی بارے میں