اب سب کو فوج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے: نواز شریف

Image caption کراچی حملے کے بعد فیصلہ کن آپریشن کا فیصلہ بھی باہمی مشاورت سے کیا گیا: نواز شریف

پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔

پیر کو قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’ہم نے امن کو پہلی ترجیح دینے کا فیصلہ کیا لیکن ہماری ہر کوشش کو ناکام بنایا گیا۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کی کوشش کی اور طویل مذاکراتی عمل کے ہر مرحلے میں سیاسی اور فوجی قیادت کے درمیان مشاورت کا عمل جاری رہا ۔

نواز شریف نے کہا کہ ’تمام فیصلے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کیے گئے۔ کراچی حملے کے بعد فیصلہ کن آپریشن کا فیصلہ بھی باہمی مشاورت سے کیا گیا۔

’کل تک آپریشن کے بارے میں مختلف آرا ہو سکتی تھیں، لیکن اب یہ باب بند ہو جانا چاہیے۔ اب سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کو فوج کی پشت پر کھڑا ہونا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں علمائے کرام سے اپیل کرتا ہوں کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق عوام کی رہنمائی کریں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا جانتی ہے کہ ہم نے ہزاروں قربانیوں کے باوجود مذاکرات کا راستہ اپنایا۔‘

گذشتہ آخرِ ہفتہ شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کے باقاعدہ آغاز کے بعد پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ انھیں یقین ہے کہ پاکستانی قوم ثابت قدمی اور حوصلے کو قائم رکھے گی۔

’ امن کی راہ اختیار کرنے کے لیے سنجیدگی کی راہ اپنانے والوں کے لیے خصوصی مراکز بنائے گئے ہیں۔ آپریشن سے متاثرہ افراد کے لیے خصوصی کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں۔‘

وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کے بارے میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں انھیں ’یقین ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت کا تعاون ملےگا۔‘

’وقت آگیا ہے کہ قبائلی علاقوں کی بستیوں کو آگ اور خون سے پاک کیا جائے۔ حکومت اور افواج نے حتی الامکان آپریشن سے گریز کیا۔ یہ ملک دہشت گروں کی پناہ گاہ نہیں بننے دیا جائے گا۔‘

پیر کی شام قومی اسمبلی میں وزیرِ اعظم نے لکھی ہوئی تقریر کی اور قومی اسمبلی سے خطاب کرنے کے بعد وہ تقریر کا متن اپنے ساتھ لے گئے اور تھوڑی دیر بعد وہی تقریر سینیٹ میں دُہرا دی۔

پاکستان کی موجودہ حکومت نے گذشتہ سال مئی میں اقتدار میں آنے کے بعد غیرقانونی شدت پسند تنظیم تحریک طالبان سے مذاکرات شروع کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ اس کے بعد ستمبر میں کل جماعتی کانفرنس میں حکومت کو طالبان سے مذاکرات کا اختیار مل گیا تھا۔

طالبان سے مذاکرات کے لیے دو بار الگ الگ کمیٹیاں بنائی گئی اور ایک بار طالبان کی جانب سے ایک ماہ کے لیے جنگ بندی کا اعلان بھی کیا گیا تاہم اس دوران شدت پسندی کے واقعات جاری رہے جس کی وجہ سے حکومت پر طالبان کے خلاف کارروائی کے لیے دباؤ بڑھتا رہا۔

حکومت شدت پسندی کے واقعات کے بعد شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائیاں کرتی رہی تاہم وزیر داخلہ چوہدری نثار کے بقول یہ یہ بھرپور جوابی کارروائیاں کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ شمالی وزیرستان میں گذشتہ چند روز سے لوگوں کی نقل مکانی کا سلسلہ تیز ہو گیا تھا اور حکومت نے بھی فوجی آپریشن شروع کرنے کے حوالے سے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

اسی بارے میں