عراق میں 40 بھارتی ورکرز اغوا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption موصل میں جو 40 ورکرز لاپتہ تھے انھیں اغوا کر لیا گیا ہے : سید اکبرا لدین

بھارت کی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ عراق میں کام کرنے والے بھارت کے 40 کارکن اغوا کر لیے گئے ہیں تاہم ابھی یہ معلوم نہیں کہ انھیں کس نے اغوا کیا ہے؟۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان سید اکبرا لدین نے دلی میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا ’موصل میں جو 40 ورکرز لاپتہ تھے انھیں اغوا کر لیا گیا ہے۔ انھیں کس نے اغوا کیا اور وہ کہاں ہیں اس مرحلے میں ہمیں کچھ بھی نہیں معلوم۔ یہ سبھی ورکرز طارق النور الہدی نام کی کی ایک تعمیراتی کمپنی میں کام کرتے تھے۔‘

اکبرا لدین نے بتایا کہ بین الاقوامی حلال احمر نے عراق سے مطلع کیا ہے کہ بھارتی ورکرز اغوا کر لیےگئے ہیں۔ حکومت نے اپنے شہریوں کی رہائی کے لیے بین الاقوامی امدادی تنظیموں سے رابطہ قائم کر رکھا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ ایک دوسرے مقام پر بھارت کی 46 نرسیں محفوظ ہیں اور انھیں کسی طرح کا خطرہ نہیں ہے۔ یہ بیشتر نرسیں کیرالہ ریاست کی ہیں۔

اغوا کیے جانے والے بیشتر بھارتی ورکرز کا تعلق پنجاب سے ہے۔ ان میں سے کچھ ورکرز کے رشتے داروں نے بتایا کہ انھیں عراق سے فون کالز موصول ہوئی ہیں اور انھیں بتایا گیا ہے کہ یہ ورکرز محفوظ ہیں۔

دوسری جانب بھارت کی حکومت اپنے سابق سفیر سریش ریڈی کو خصوصی ایلچی کے طور پر بغداد بھیج رہی ہے۔

ایک اندازازے کے مطابق عراق کے ہسپتالوں، انفارمیشن اور تعمیراتی شعبے میں بھارت کے دس ہزار شہری کام کر رہے ہیں۔

بھارت کے مختلف چینلز عراقی شدت پسندوں کے ذریعے حال میں جاری کیے گئے وہ ویڈیوز دکھا رہے ہیں جن میں انھیں عراقی فوجیوں کو گولی مارتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

اس طرح کی خبروں سے عراق میں کام کرنے والے بھارتی ورکرز کے رشتے داروں کی مشکلیں اور بھی بڑھ گئی ہیں۔

اسی بارے میں