ترکی میں جرنیلوں کو بغاوت کرنے پر عمر قید کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جنرل کنعان بائیں جانب سے تیسرے نمبر پر کھڑے ہیں جبکہ جنرل تحسین دائیں جانب سے دوسرے نمبر پر ہیں، ان دونوں پر سنہ 2012 سے مقدمہ چل رہا ہے

ترکی میں سنہ 1980 میں فوجی بغاوت کرنے والے سابق فوجی سربراہ جنرل کنعان اروین اور جنرل تحسین سحینکایا کو عمر قید کی سزائیں دی گئی ہیں۔

سنہ 1980 میں حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والے فوجی جرنیلوں میں جنرل کنعان جن کی عمر 97 سال اور جنرل تحسین جن کی عمر 89 سال ہے ابھی تک زندہ ہیں لیکن ان کی صحت خراب ہے۔

دونوں سابق فوجی جرنیل خرابی صحت کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ خیال رہے کہ ترکی میں یہ پہلی دفعہ ہے کہ فوجی جرنیلوں پر بغاوت کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا ہے۔

جنرل کنعان نے جو سنہ 1989 تک ملک کے صدر بھی رہے کبھی اس بغاوت پر افسوس کا اظہار نہیں کیا۔ اس بغاوت میں لوگوں کو ہلاک، ٹارچر اور زبردستی غائب کر دیا گیا تھا۔

سنہ 1980 کی بغاوت کے دوران تقریباً چھ لاکھ لوگوں کو حراست میں لیا گیا تھا جبکہ 50 افراد کو پھانسی دی گئی تھی۔

اس کے علاوہ بدھ کو ترکی کی سب سے بڑی عدالت نے سنہ 2003 میں طیب اردوگان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کرنے کے الزام میں 230 فوجی افسروں پر دوبارہ مقدمہ چلانے کے لیے راہ ہموار کر دی ہے۔

جنرل کنعان اور جنرل تحسین کو ریاست کے خلاف جرائم کے مرتکب ہونے پر سزا ہوئی جس میں فوجی مداخلت کے لیے ماحول بنانے اور بغاوت کرنا شامل ہے۔

تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ان جرنیلوں کو عمر قید کی سزا کاٹنے کے لیے جیل بھیج دیا جائے گا یا نہیں کیونکہ ان کی صحت خراب ہے۔

ادھر ان کے وکیل بوراک باسکل نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ وہ اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔

جنرل کنعان نے سنہ 1980 میں ہونے والی بغاوت کے حق میں دلیل دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی وجہ سے ملک سیاسی انتہا پسندوں کے درمیان لڑائیوں کے باعث بدحالی میں جانے سے بچ گیا تھا۔

سیاسی کارکنوں کو پھانسی دینے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے انھوں نے سنہ 1984 میں ایک تقریر میں کہا تھا کہ ’کیا ہم انھیں پھانسی دینے کے بجائے عمر بھر تک جیل میں کھانا دیتے رہیں۔‘

اسی بارے میں