ایرانی جنرل کی عراقی بحران میں مداخلت

Image caption جنرل سلیمانی اس حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں کہ انھوں نے شام کے صدر بشار الاسد کی باغیوں کے خلاف کارروائیوں میں مدد کی تھی

چند سال پہلے قاسم سلیمانی کی تصویر ملنا تقریباً ناممکن تھی۔ اب ان کی تصویر اکثر اخبارات کے صفحۂ اول پر نظر آتی ہے اور کئی ایرانی ٹی وی چینل بھی ان کے بارے میں دستاویزی فلمیں دکھاتے ہیں۔

اب لگتا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل سلیمانی گمنامی سے نکل کر سامنے آ رہے ہیں اور جو بیج وہ اب تک بو رہے تھے انھیں کاٹنے کا وقت آ گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق وہ اب بغداد میں ہیں اور دولت اسلامی فی عراق و شام یعنی داعش کی جانب سے مزید پیش قدمی روکنے کے لیے حکمتِ عملی کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔ جنرل سلیمانی پہلے شام میں بھی اس جہادی گروپ کا سامنا کر چکے ہیں۔

جنرل سلیمانی اس حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں کہ انھوں نے شام کے صدر بشار الاسد کی باغیوں کے خلاف کارروائیوں میں مدد کی اور کئی اہم شہروں اور قصبوں کو باغیوں سے چھڑانے میں کردار ادا کیا۔

ایران نے ہمیشہ اس بات کی تردید کی ہے کہ اس کی فوج شام میں موجود ہے، لیکن گذشتہ ہفتے قدس فورس کے مزید تین اراکین ایران میں ایک عوامی جنازے میں دفن کیے گیے تھے۔ اس جنازے میں قاسم سلیمانی موجود نہیں تھے لیکن وہ ماضی میں شام میں ہلاک ہونے والوں کے جنازوں میں شرکت کر چکے ہیں۔

عراق میں بحران کی وجہ سے دو روایتی دشمنوں ایران اور امریکہ کے درمیان تعاون کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں تاہم یہ سننے میں عجیب لگتا ہوگا کہ یہ عراق اور افغانستان میں پہلے ہی ہو چکا ہے۔

سنہ 2001 میں جب امریکہ نے طالبان کے خلاف کارروائی شروع کی تو ایران نے امریکہ کو فوجی انٹیلی جنس فراہم کی تھی۔ اسی طرح سنہ 2007 میں واشنگٹن اور تہران نے اپنے نمائندے بغداد بھیجے تاکہ وہاں کی سکیورٹی صورتحال پر مذاکرات کریں۔

گذشتہ سال ایک انٹرویو میں عراق میں سابق امریکی سفیر رائن کروکر نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ جنرل سلیمانی کا بغداد مذاکرات میں اہم کردار تھا۔

رائن کروکر کے مطابق انھیں جنرل سلیمانی کے اثرات افغانستان میں بھی محسوس ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’افغانستان میں یہ ظاہر ہو گیا کہ بالآخر فیصلے کرنے والے جنرل سلیمانی تھے۔‘

گذشتہ چند سالوں میں جنرل سلیمانی کا ایران کے خارجہ امور میں کردار مزید ابھر کر سامنے آیا ہے۔ وہ اب فون لائن کی دوسری طرف پائے جانے والے ایک چھپی ہوئی شخصیت نہیں ہیں۔ آج کل وہ ایران میں جانی پہچانی شخصیت ہیں۔

گذشتہ سال شامی باغیوں نے ایک ایرانی فلم ساز کو مار ڈالا تھا۔ ان سے انھیں کچھ ایسی خصوصی فوٹیج حاصل ہوئی جس سے شام میں پاسداران انقلاب کے بارے میں دلچسپ معلومات حاصل ہوئیں۔

اس فوٹیج کی انٹرنیٹ پر خاصی تشہیر ہوئی تھی۔ اس میں دکھایا گیا کہ ایران نے نیشنل ڈیفنس فورس نامی ایک رضاکار ملیشیا قائم کرنے میں شام کی حکومت کی مدد کی تھی۔

ذرائع نے ہفتے کے روز بی بی سی فارسی کو بتایا کہ قدس فورسز کے سو سے زیادہ اہلکار عسکری مشورہ دینے عراق پہنچ چکے ہیں۔

اگرچہ سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی ہے، لیکن عراق میں بی بی سی فارسی کے نامہ نگاروں کے مطابق وسیع پیمانے پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ایران شیعہ جنگجووں کو منظم کر رہا ہے تاکہ وہ پست حوصلہ عراقی فوج کےساتھ مل کر لڑیں۔

اسی بارے میں