’طالبان جرائم پیشہ تنظیم بنتی جا رہی ہے‘

Image caption اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں افیون کی کاشت پر پابندی کے باوجود طالبان کے دورِ حکومت میں منشیات کی غیر قانونی تجارت ہی ان کی کمائی کا بہترین ذریعہ تھی

اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق نیٹو افواج کی افغانستان سے پسپائی کے بعد طالبان کے پاس بے تحاشا دولت موجود ہے اور یہ تحریک ایک مالدار جرائم پیشہ تنظیم بنتی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق طالبان کو منشیات، اغوا اور بغیر لائسنس کان کنی سے دولت حاصل ہو رہی ہے یہاں تک کہ چند دھڑے ’مافیا‘ بن چکے ہیں۔

افغانستان میں جاری جنگ کے باعث طالبان کی تجوریوں میں ماہانہ لاکھوں ڈالروں کا اضافہ ہو رہا ہے اور طالبان افغانستان میں امن کو اپنے منافعے کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں افیون کی کاشت پر پابندی کے باوجود طالبان کے دورِ حکومت میں منشیات کی غیر قانونی تجارت ہی ان کی کمائی کا بہترین ذریعہ تھی۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان کے صوبہ ہلمند میں برطانوی اور امریکی افواج کے جانے کے بعد طالبان رواں برس میں پانچ کروڑ ڈالر تک کما سکتے ہیں جبکہ آئندہ برس میں ان کے منافعے میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ماہرین کے مطابق افغانستان میں طالبان کی یہ سوچ کہ وہ امریکہ کے چلے جانے کے بعد اقتدار حاصل کر لیں گے سنجیدہ مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے

خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں فراہم جانے والے اعداد و شمار اندازوں کے مطابق ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک طالبان کی دولت میں کمی نہیں ہوتی، افغانسان میں امن قائم ہونے کی امید بہت کم ہے۔

افغانستان کے اندر اور باہر سے رضاکارانہ اور زبردستی آنے والے چندے اور مذہب کی بنیاد پر خلیج ممالک کی امداد بھی طالبان کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے۔

تاہم اقوامِ متحدہ کے مبصرین کے مطابق طالبان افغانستان سے اپنی آمدنی کے دوسرے ذرائع بھی استعمال کر رہے ہیں۔طالبان اغوا برائے تاوان، غیر منظور شدہ کان کنی، قیمی پتھروں کی سمگلنگ اور لکڑی کی تجارت سے دولت کما رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے اندازے کے مطابق طالبان صرف صوبہ ہلمند سے غیر منظور شدہ کان کنی سے سالانہ ایک کروڑ ڈالر کما رہے ہیں۔ افغانستان کے صوبہ ہلمند میں طالبان کا زیادہ اثر ہے، اور وہاں غیر قانونی کان کنی ان کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق طالبان مذہبی نظریاتی تنظیم کی بجائے مجرمانہ نیٹ ورک بنتا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق افغانستان میں طالبان کی یہ سوچ کہ وہ امریکہ کے چلے جانے کے بعد اقتدار حاصل کر لیں گے سنجیدہ مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

دوسری جانب طالبان نے اقوامِ متحدہ کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔

طالبان کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم مافیا قائم نہیں کر رہے ہیں، ہم اسلام اور افغانستان کے لیے لڑ رہے ہیں۔‘

طالبان کے ترجمان نے اقوامِ متحدہ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کو ثابت کرے کہ طالبان منشیات کی تجارت سے منافع حاصل کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں