عراق بحران: بیجی آئل ریفائنری اور تل عفر میں شدید لڑائی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حالیہ دنوں میں داعش نے اتنی تیزی سے فوجی پیش قدمی کی ہے کہ اس نے سب کو حیران کر کے رکھ دیا ہے

شمالی عراق میں بیجی کی آئل ریفائنری اور تل عفر کے ہوائی اڈے پر قبضے کے لیے اسلامی عسکریت پسندوں اور حکومت کی حامی طاقتوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔

بیجی میں عراق کا تیل کا سب سے بڑا کارخانہ ابھی تک باغیوں کے گھیرے میں ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے تل عفر کے ہوائی اڈے کے زیادہ تر حصے پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

جمعے کو جاری اس تازہ لڑائی سے ایک دن قبل امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ امریکہ ضرورت پڑنے پر عراق میں شدت پسندوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے ٹارگٹڈ آپریشن اور مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہے۔ تاہم صدر اوباما نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا تھا کہ امریکی زمینی فوج عراق میں لڑائی میں شرکت کے لیے نہیں بھیجی جائے گی۔

امکان ہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری جلد ہی عراق جائیں گے جہاں وہ ملک کے مختلف فرقوں کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے اس بات پر زور دیں گے کہ عراقی کابینہ میں تمام فرقوں کو نمائندگی دی جائے۔

عراقی وزیرِاعظم نوری المالکی پر الزام رہا ہے کہ ان کی سنی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے کچھ سنی شدت پسند جہادی تنظیم دولت اسلامی عراق و شام (داعش) میں شامل ہوگئے ہیں اور عراقی فوجیوں کے خلاف جاری لڑائی میں حصہ لے رہے ہیں۔

داعش نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے بیجی آئل ریفائنری کے نواح میں عراقی فوج کے دو ہیلی کاپٹر بھی مار گرائے ہیں، لیکن اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

شمالی عراق کے شہر ابریل سے بی بی سی کے نامہ نگار جِم موئر کے مطابق ممکن ہے کہ اب تک عسکریت پسندوں نے بیجی کی وسیع وعریض آئل ریفائنری کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیا ہو۔ داعش کے جنگجو بغداد سے 70 میل دور کیمیائی ہتھیاروں کے ایک متروک کارخانے پر پہلے ہی قبضہ کر چکے ہیں۔

اگرچہ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کارخانے میں ایسا کوئی مواد نہیں ہے جس سے باغی کیمیائی ہتھیار بنا سکیں، لیکن امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’اگر داعش کے عسکریت پسند کسی بھی فوجی تنصیب پر قبضہ کر لیتے ہیں تو ہمیں فکر ہوگی۔‘

جمعرات کو اپنے خطاب میں صدر براک اوباما نے کہا تھا عراقی حکومت کی مدد کے لیے 300 عسکری مشیر بھیجے جائیں گے، تاہم انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ عراق کے مسئلے کا کوئی ’عسکری حل‘ نہیں ہے اور اس کے لیے سیاسی حل کی ضرورت ہے۔

انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’امریکہ عراق میں ایک مسلک کے حق میں اور دوسرے کے خلاف فوجی کارروائی نہیں کرے گا۔‘

واضح رہے کہ عراقی حکومت نے باقاعدہ طور پر امریکہ سے درخواست کی ہے کہ وہ گذشتہ ہفتے کے دوران عراق کے کئی اہم شہروں اور قصبوں پر قبضہ کرنے والے دولت اسلامی عراق و شام (داعش) سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکہ عراق میں ایک مسلک کے حق میں اور دوسرے کے خلاف فوجی کارروائی نہیں کرے گا: اباما

براک ک اوباما نے کہا کہ یہ امریکہ کا کام نہیں ہے کہ وہ عراق کے رہنماؤں کو منتخب کرے، لیکن انھوں نے زور دیا کہ وہ ’سب کو ساتھ لے کر چلنے‘ کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہوں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدر براک اوباما کی اس بات کو عراق کے شیعہ وزیرِ اعظم نوری المالکی پر دبے الفاظ میں تنقید کے طور دیکھا جا سکتا ہے جن پر سنی مخالف پالیسیاں ترتیب دینے کا الزام ہے جن کی وجہ سے عدم استحکام بڑھا ہے۔

اس سے قبل بدھ کو واشنگٹن میں امریکی سینیٹروں کے سامنے بیان دیتے ہوئے امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی نے کہا تھا کہ انھیں عراقی حکومت کی طرف سے فضائی مدد فراہم کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

جنرل ڈیمپسی نے کہا تھا کہ داعش کے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنا امریکہ کے اپنے مفاد میں ہے۔

لیکن انھوں نے خبردار کیا کہ امریکی فوج کے پاس کارروائی کرنے کے لیے اب بھی ضرورت کے مطابق انٹیلی جنس معلومات نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فضائی بمباری کے دوران پائلٹوں کے لیے یہ معلوم کرنا مشکل ہوگا کہ وہ کس پر حملہ کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں